واشنگٹن ۔ 17 مارچ (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسرائیل اپنے مسائل حل کرنے کیلئے ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔جب ان سے ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر ڈیوڈ سیکس کے ایک پوڈ کاسٹ میں دیے گئے اس تبصرے کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے قیاس آرائی کی تھی کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ میں شدت لا سکتا ہے اور ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے، تو امریکی صدر نے کہا کہ “اسرائیل ایسا نہیں کرے گا، اسرائیل ایسا کبھی نہیں کرے گا”۔امن کے تحقیقاتی ادارے کے تخمینوں کے مطابق اسرائیل کے پاس تقریباً 90 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے تہران کی صلاحیتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حملے اب بھی کئی سمتوں میں جاری ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ذکر کیا کہ ایران پر جنگ گذشتہ چند دنوں کے دوران پوری قوت کے ساتھ جاری رہی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ “امریکہ نے پورے ایران میں 7000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ تجارتی و فوجی اہداف تھے۔ ہم نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی فائرنگ میں 90 فی صد اور ڈرونز کی فائرنگ میں 95 فی صد کمی حاصل کی ہے”۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب بہت کم میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ آج ہم نے میزائل اور ڈرون بنانے والی 3 جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 100 سے زائد ایرانی بحری جہاز ڈبوئے جا چکے ہیں اور حملے تمام سمتوں میں جاری ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے بارودی سرنگیں بچھانے والے 30 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں اور میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ کوئی بارودی سرنگ بچھائی گئی ہے یا نہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ دیگر ممالک کو مدد کیلئے شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں اور ہم ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور ہم اس آبنائے کو دوبارہ فعال کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ ممالک پرجوش ہیں اور کچھ نہیں۔
ایران سے مذاکرات نہ کرنے ٹرمپ کا اعلان
واشنگٹن ۔ 17 مارچ (ایجنسیز) اعلیٰ سطح کے دو امریکی حکام نے سی این این کو بتایا کہ ایرانی حکام نے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دیگر امریکی اہلکاروں سے حالیہ دنوں میں براہِ راست رابطہ کیا تاکہ سفارتی چینل دوبارہ فعال کیا جا سکے۔تاہم دونوں حکام نے واضح کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو بتایا کہ وہ اس وقت مذاکرات کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جن کا نام وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں نے وٹکوف سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنے والے کے طور پر لیا تھا، سختی سے تردید کی کہ حال ہی میں کسی امریکی ایلچی سے کوئی رابطہ ہوا ہو۔عراقچی نے “ایکس” پلیٹ فارم پر لکھا کہ وٹکوف کے ساتھ کسی نئے رابطے کا دعویٰ صرف تیل کی مارکیٹ اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا آخری رابطہ امریکی ایلچی سے فوجی حملے کے اعلان سے قبل ہوا تھا۔امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال ہوا، یہ پہلی بار ہے کہ جنگ کے آغاز کے دو ہفتے بعد دونوں جانب سے براہِ راست رابطہ ہوا۔ایک امریکی اہلکار جبکہ ایک اور ذریعہ جو مذاکرات سے واقف ہے، کے مطابق پیغامات کے مواد کی تفصیلات واضح نہیں ہیں، تاہم یہ رابطہ فوجی تصادم کے آغاز کے بعد پہلا براہِ راست رابطہ ہے۔
ایران جنگ:امریکی اور یورپی سفارت کار
ٹرمپ کی حکمت عملی پر مایوس
واشنگٹن، 17 مارچ (یو این آئی) ایران اسرائیل جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کی حکمت عملی پر امریکی اور یورپی سفارتکار مایوسی کا اظہار کرنے لگے ۔ امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق ایران جنگ سے متعلق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت عملی پر امریکی اور یورپی سفارت کار مایوسی کا اظہار کرنے لگے ہیں اور اس جنگ پر سفارتی چینلز استعمال نہ کیے جانے سے سفارت کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ٹرمپ کے دباؤ پر بھی سفارتکار تذبذب کا شکار ہیں اور ان پر واضح نہیں ہو پا رہا کہ مشن کی عملی سطح پر قیادت کون کر رہا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکو روبیو بھی سرگرم ہیں، مگر وہ قائم مقام قومی سلامتی مشیر کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ فوجی چینلز اور وائٹ ہاؤس کے رابطے جاری جب کہ باقاعدہ سفارتی مکالمہ محدود ہے ۔ امریکی اور یورپی سفارت کاروں کو تشویش ہے کہ موثر سفارتی رابطوں کی کمی سے مشن کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔