عمان : اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ دنیا میں محاذآرائی کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزرا لیکن وہ اس سے زیادہ خطرناک وقت یاد نہیں کر سکتے جس کا ہم اس وقت سامنا کر رہے ہیں۔اردن کے شاہ عبداللہ، جو اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں تھے جہاں انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔شاہ عبداللہ نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر وقت ہماری دنیا افراتفری کا سامنا کرتی ہے لیکن مجھے اس سے زیادہ خطرناک وقت یاد نہیں ہے جس کا ہم اس وقت سامنا کر رہے ہیں۔شاہ عبداللہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جو اس کی قانونی حیثیت اور تشخص کو دھچکا لگا رہاہے، اس پیش رفت سے عالمی اعتماد اور اخلاقی اقدار کے خاتمے کا خطرہ ہے، میں بین الاقوامی اداروں خصوصاً اقوام متحدہ کے ناپختہ ڈھانچے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔غزہ اور فلسطین کے معاملے کے حوالے سے شاہ عبداللہ نے کہا کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے کیے گئے بے مثال ظلم کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا، فلسطینیوں نے 57 سال سے زائد عرصے سے غاصبانہ قبضے، ناانصافی اور جبر کو برداشت کیا ہے ، اسرائیلی حکومت نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔شاہ عبداللہ نے کہا کہ عرب دنیا اسرائیل سے امن کے بدلے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تیار ہے لیکن یکے بعد دیگرے اسرائیلی حکومتوں نے تنازعات کا انتخاب کیا کیونکہ اسے گمان ہے کہ وہ خاص مراعات کا حامل ملک ہے۔