نئی دہلی ۔ تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس معاہدے میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک وہ اس کے لیے سازگار نہ ہو۔ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے ) پر بات چیت مئی2010 سے جاری ہے۔یہاں ہندوستانی برادری کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیر نے کہا ہم اسرائیل کے ساتھ ایف ٹی اے صرف اسی صورت میں کریں گے جب یہ معاہدہ اچھا اور باہمی فائدہ مند ہو۔ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان سامان کی دو طرفہ تجارت 2021-22 میں تقریباً 8 بلین ڈالر رہی۔ یہ 2020-21 میں 4.7 بلین ڈالر تھا۔ ہندوستان سے برآمد ہونے والی اشیاء میں مہنگے جواہرات اور دھاتیں، کیمیائی مصنوعات اور ٹیکسٹائل، کپڑے کی اشیاء شامل ہیں۔ درآمد کی جانے والی اشیاء میں مہنگے جواہرات اور دھاتیں، کیمیائی اور معدنی مصنوعات، بنیادی دھاتیں اور مشینری اور ٹرانسپورٹ کا سامان شامل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے کئی ممالک سے بات چیت جاری ہے۔