یروشلم : اسرائیلی وزیر دفاع یو و گیلینٹ نے کل جمعہ کو کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کی فوجی مہم کا ایک مقصد اسرائیل پر سے محصور فلسطینی ساحلی شہر کی ذمہ داری ختم کرنا ہے۔غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطے کا زیادہ تر انحصار اسرائیل پر ہے کیونکہ فلسطینی علاقے کی زمین اور سمندری سرحدوں کا 90 فی صد حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔سن 2007 میں غزہ کی پٹی کا کنڑول عسکریت پسند گروپ حماس کے پاس آنے کے بعد سے اسرائیل نے اس علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور غزہ کی درآمدات اور برآمدکے ساتھ ساتھ وہاں آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔غزہ کی سرحد کا کچھ حصہ مصر سے ملحق ہے جہاں رفح نامی سرحدی گزر گاہ ہے۔ بیرونی دنیا سے براہ راست رابطے کا یہ واحد سرحدی راستہ ہے جو حماس کے کنٹرول میں ہے۔تاہم مصر زمینی حالات اور خطہ کی صورت حال کے پیش نظر حماس کو اپنے استحکام کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہوئے اسرائیلی ناکہ بندی کی عمومی طور پر حمایت کرتا ہے۔