اسرائیل میں حکومت مخالف مظاہروں میں مزید شدت

,

   

تل ابیب : اسرائیل میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی زیرِ قیادت کولیشن حکومت کی عدالتی اصلاحات کے خلاف اسرائیلیوں کے احتجاجی مظاہرے 31 ویں ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔ہفتے کی شام دوبارہ وسیع شرکت کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔تل ابیب، مغربی القدس، ہائفہ، بیروسیبی، ہرزلیا اور ریہووٹ جیسے شہروں سمیت ملک بھر میں بیسیوں مختلف مقامات پر کئے گئے احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ہر ہفتے کی طرح سب سے بڑا مظاہرہ تل ابیب میں کیا گیا۔ مظاہرین تل ابیب کی کاپلان شاہراہ کے حکومت کمپلیکس کے سامنے جمع ہوئے۔نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کروانے والے لیڈروں نے جلوس سے خطاب کیا اور حکومت کی عدالتی اصلاحات پر تنقید کی۔جلوس کے لیڈروں نے نیتن یاہو کو کسی ممکنہ آئینی بحران کا راستہ کھولنے اور قانون کی بالادستی ختم کرنے کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔کاپلان شاہراہ کے مظاہروں میں ہر ہفتے مظاہرین ایک مرکزی نعرے والا دیو ہیکل پلے کارڈ لہراتے ہیں۔ حالیہ مظاہرے میں کھولے گئے پلے کارڈ پر نیتن یاہو کی تصویر کے ساتھ “100 فیصد جھوٹ” کی عبارت رقم تھی۔تل ابیب کے احتجاجی مظاہرین نے شام کے وقت شہر میں کئے گئے مسلح حملے کے باوجود احتجاجی مظاہرہ جاری رکھا۔احتجاجی مظاہرے سے چند کلو میٹر کی مسافت پر کئے گئے حملے میں ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار اور ایک فلسطینی حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے۔مغربی القدس میں بھی مظاہرین نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کیا مظاہرین نے “اس کی وجہ سے ہر چیز تباہ ہو رہی ہے” کی تحریر والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ملک کے مختلف مقامات پر کئے گئے احتجاجی مظاہروں میں حزب اختلاف کے لیڈروں نے بھی شرکت کی۔