یروشلم، 17 اگست (یو این آئی) دارالحکومت یروشلم کے شائر زیڈک میڈیکل سنٹر میں ہفتے کے روز ایک 18 ماہ کے اسرائیلی لڑکے کی خسرہ سے موت ہو گئی، جو ملک میں خسرہ کی بڑھتی ہوئی وبا کے درمیان دوسری موت ہے ۔یہ اطلاع اسرائیل کی وزارت صحت کی طرف سے اتوار کو ایک بیان میں دی گئی اور کہا گیا کہ بچے کو خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے نہیں لگائے گئے تھے ۔پہلی موت چہارشنبہ کے روز یروشلم کے حداسہ میڈیکل سینٹر میں ایک دو سالہ اسرائیلی بچے کی ہوئی اسے بھی ویکسین نہیں دی گئی تھی۔وزارت نے کہا کہ اپریل کے اوائل میں وباء شروع ہونے کے بعد سے اب تک خسرہ کے 526 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے ، جن میں 209 فعال انفیکشن بھی شامل ہیں۔ وزارت نے کہا کہ چھ سال سے کم عمر کے 19 بچے ہاسپٹل میں داخل ہیں جن میں ایک سال کی بچی بھی شامل ہے جوای سی ایم او سپورٹ پر ہے ۔وزارت نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بچوں کا ویکسنیشن قومی پروگرام کے مطابق ہو، جس میں 12 ماہ کی عمر میں ایک خوراک اور پہلی جماعت میں دوسری خوراک شامل ہے ۔ خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جس کی علامات بخار، متلی، ناک بہنا اور خارش ہیں۔ بعض صورتوں میں، یہ شدید اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہے ۔