تل ابیب : صہیونی فوجیوں نے اتوار کو حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کے لیے تیاری کرلی ،حماس کے سربراہ نے منہ توڑ جواب دینے کا عزم کیا ہے۔ اسرائیل نیغزہ پر اب تک کی شدید ترین بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے 2.3 ملین فلسطینیوں کے گھروں کو مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔متوقع زمینی حملہ اتوار کی صبح تک شروع نہیں ہوا تھا۔غزہ کے حکام نے بتایا کہ 3000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک چوتھائی بچے ہیں اور تقریباً 10,000 زخمی ہیں۔ ریسکیو ورکرز رات کے وقت ہونے والے فضائی حملوں سے بچ جانے والوں کو بے حد تلاش کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ملین لوگ اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت نے لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ سے بھی کہا کہ وہ دوسرے محاذ پر جنگ شروع نہ کرے اور دھمکی دی کہ اگر ایسا ہوا تو ‘‘لبنان کی تباہی’’ ہو جائے گی۔ایران کے مشن گو اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کے ‘‘جنگی جرائم اور نسل کشی’’ کو فوری طور پر روکا نہیں گیا تو ‘‘صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے’’ اور اس کے بہت دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ایران نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی بمباری بند نہ کی گئی تو ‘‘دور رس نتائج’’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حماس اور حزب اللہ دونوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے قطر میں ایران کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے اسرائیل میں فلسطینی گروپ کے حملے پر تبادلہ خیال کیا ۔