اسرائیل کو بچاناایران بہانہ، مشرق وسطیٰ نشانہ

   

عامر علی خان
ایران پر اسرائیل ۔ امریکہ کے حملوں نے ساری دنیا میں بے چینی کی لہر پیدا کردی ہے ۔ خاص طورپر دنیا میں آبنائے ہرمز کو لیکر تیل اور قدرتی گیس کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور اس سے ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ہم اس مضمون میں سب سے پہلے مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے ذخائر پر بات کریں گے ۔ واضح رہے کہ مشرقی وسطیٰ دنیا کا وہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ تیل اور گیس کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں آپ کو یہ بتانا ضروری ہیکہ مشرق وسطیٰ میں 830-860 ارب بیارل تیل کے ذخائر ہیں ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کا 48 تا 50 فیصد تیل اسی علاقہ میں پایا جاتا ہے ۔ باالفاظ دیگر دنیا کا نصف تیل اسی علاقہسے دنیا کے مختلف ملکوں میں پہنچتا ہے۔ اب قدرتی گیس کی طرف آتے ہیں ۔ اس علاقہ میں دنیا کی 36 فیصد قدرتی گیس پائی جاتی ہے ۔ جہاں تک قدرتی گیس کے ذخائر یا سب سے زیادہ پیداوار کرنے والے ممالک کا سوال ہے ایران اور قطر دو ایسے ملک ہیں جن کے یہاں دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈس ہیں۔
جہاں تک تیل کی پیداوار میں سرفہرست ملکوں کا سوال ہے اس معاملہ میں سعودی عرب سرفہرست ہے ، اس کے پاس 260-270 ارب بیارل تیل کے ذخائر موجود ہیں جبکہ200 ارب بیارلس کے ساتھ ایران دوسرے نمبر پر ہے ۔ عراق برسوں تباہی و بربادی کا سامنا کرنے کے باوجود 145 ارب بیارل تیل کے ذخائر کا حامل ہے ۔ متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) 120 ارب بیارلس اور کویت 100 ارب بیارلس تیل کی پیداوار کرتا ہے ۔ گیس کی بات کرتے ہیں تو ایران کے پاس 34 کھرب کیوبک میٹرس اور قطر کے پاس 24-25 کھرب کیوبک میٹرس ، سعودی عرب 8TCM اور یو اے ای 6-7 TCM گیس کے ذخائر رکھتا ہے ۔
اگر مجموعی طورپر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ میں یومیہ روزآنہ 28-30 ملین بیارل تیل کی پیداوار ہوتی ہے ۔ اس میں بیرون 18-20 ملین بیارلس اکسپورٹ ہوتے ہیں چونکہ مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں اس لئے اس دنیا کا قلب تونائی (Energy Heart) کہا جاتا ہے ۔ اس حقیقت سے کبھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اگر مشرق وسطیٰ سے دوسرے ملکوں بالخصوص تیسری دنیا کے ملکوں کو تیل اور گیس کی سپلائی رُک جائے تو مالی بحران پیدا ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے پٹرول ؍ ڈیزل کا بحران پیدا ہوتا ہے جس کے ساتھ ہی اشیائے ماتحیاج اور دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے ۔
اگر جنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو پھر خاص طورپر ہمارے ملک میں نہ صرف پٹرول و ڈیزل اور گیس کی سربراہی کا بحران پیدا ہوگا بلکہ پہلے ہی سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہندوستانیوں کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ہندوستان اپنی تیل کی ضروریات پوری کرنے 85.88 تا 88 فیصد تیل درآمد کرتا ہے ( اس میں سے 60 فیصد تیل مشرق وسطیٰ سے آتا ہے ) چنانچہ آسام ، کیرالہ ، ٹاملناڈو ، مغربی بنگال اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات کے فوری بعد نہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیائے مائحتیاج کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ آسام ، کیرالہ ، تاملناڈو ، مغربی بنگال اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری میں جملہ 824 اسمبلی حلقے ہیں جہاں اپریل میں رائے دہی ہوگی اور 4 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔ ان ریاستوں میں مغربی بنگال ایسی ریاست ہے جس پر فی الوقت سارے ہندوستان کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔ مودی ۔ امیت شاہ جوڑی ( اور اپوزیشن کے مطابق مودی ۔ امیت شاہ ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا ) ہر حال میں ممتا بنرجی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی خواہاں ہیں ، ایسے میں یہ دیکھنا ہے کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی ، بی جے پی اور الیکشن کمیشن کا کس طرح مقابلہ کرتی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو مذکورہ چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ کے اسمبلی انتخابات عام انتخابات 2029 کی تیاریوں کا ایک حصہ ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ممتا بنرجی ایک ایسی عوامی لیڈر ہیں جن کا سیاسی کیرئیر بے داغ ہے اور اُن کی یہی خوبی اُنھیں مودی ۔ امیت شاہ اور دوسرے بی جے پی قائدین سے ممتاز بنادیتی ہے ۔ ان کے سیاسی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مغربی بنگال میں سی پی آئی ایم کے زیرقیادت بائیں بازو اتحاد کی 34 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کیا لیکن پچھلے اسمبلی انتخابات سے مغربی بنگال میں بی جے پی کی طاقت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ کئی غیرضروری مسائل پر بی جے پی نے ٹی ایم سی اور اس کی حکومت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ اس ضمن میں آرجی کار میڈیکل کالج و ہاسپٹل کی ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل پر بی جے پی نے اوچھی سیاست کی اور ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی حکومت کو بدنام کرنے کی ہرممکنہ کوشش کی لیکن ممتا نے بڑی بہادر کے ساتھ بی جے پی کا مقابلہ کیا ۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی قیادت نے ٹی ایم سی میں موجود غداروں کا اچھی طرح استعمال کیا اور آج ٹی ایم سی کے وہ غدار بی جے پی کے اہم قائدین بن گئے ہیں۔
بہرحال ہم بات کررہے تھے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کی ، اس ضمن میں آپ کو یاد ددلانا چاہوں گا کہ جون 2025 ء میں بھی اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی جس میں امریکہ بھی زبردستی کود پڑا تھا ، اس جنگ میں نہ صرف ایرانی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا گیا بلکہ نطنز ، فردو اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر حملے کرتے ہوئے اُنھیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئیں ۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کو شہید بھی کیا ۔ اگر ہم موجود جنگ اور اُس کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں تو بناء جھجھک کوئی بھی انصاف پسند شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اسرائیل ۔ امریکہ نے ایران کے خلاف جان بوجھ کر یہ جنگ چھیڑی ہے، ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اﷲ علی خامنہ ای اور اُن کے چند ارکان خاندان ، آئی آر جی سی کے سینئر کمانڈر محمد پاکپور ، وزیر دفاع جنرل عزیز نصیرزادہ ، رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے قریبی اور بااعتماد مشیر علی شمخانی، شہید رہبر اعلیٰ کے مشیر و سکیورٹی سربراہ جنرل عبدالرحیم موسوی ، علی رضا تنگسیری ، پارلیمانی بسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی ، انٹلیجنس چیف اسمعیل احمدی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور اُن کے فرزند شامل ہے ۔
اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں میں ایران کے کم از کم 20 سرفہرست رہنما شہید ہوئے ، اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ناجائز و غیرقانونی حملے کرتے ہوئے کسی ملک کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں تو کیا یہ دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرائم باالفاظ دیگر جنگی جرائم نہیں ہیں ؟ ویسے بھی آج دنیا میں جس طرح کی افراتفری اور بے چینی کا ماحول پایا جاتا ہے تو اس کیلئے امریکہ اور اسرائیل پوری طرح ذمہ داری ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسرائیل کی لڑائی امریکہ (ڈونالڈ ٹرمپ ) کیوں لڑ رہے ہیں ؟ کیا ٹرمپ پر کسی قسم کا بیرونی ( اسرائیلی ) دباؤ ہے ؟ کیا جیفری ایپسٹن فائلز کے ذریعہ ڈونالڈ ٹرمپ کو بلیک میل تو نہیں کیا جارہا ہے ؟ ان سوالات کے جوابات خود آپ قارئین اچھی طرح دے سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے کسی بھی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران تو ایک بہانہ ہے دیکھا جائے تو خلیجی ممالک اصل نشانہ ہیں ۔ غیرمحسوس طریقہ سے اسرائیل ۔ امریکہ ایک تیر سے دو شکار کررہے ہیں ۔ ایک تو جوہری ہتھیاروں کے نام پر ایران کو تناہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف تیل اور قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے مالا مال خلیجی ممالک کی معیشت کو تباہ کرنے کا سامان بھی کیا جارہا ہے ۔ ایسے میں اُمت مسلمہ کو مومن کی فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوست اور دشمن میں فرق کرنا چاہئے ۔ میں نے اپنے پچھلے آرٹیکل میں کہا تھا کہ یہ صرف اور صرف تیل کا کھیل ہے ۔ اب جو کچھ بھی ہورہاہے وہ تیل ۔ گیس کیلئے اور اسرائیل کو پوری طرح محفوظ کرنے کیلئے ہورہا ہے ۔
جہاں تک ڈونالڈ ٹرمپ کا سوال ہے ، اُن کے عجیب و غریب فیصلوں ، اقدامات Body Language اشاروں ، کنایوں یہاں تک کہ بیانات کے نتیجہ میں وہ عالمی سطح پر موضوع مذاق بن گئے ہیں شائد خود اُنھیں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہے ہیں ؟ کیوں کررہے ہیں ؟ کیا کہہ رہے ہیں ؟ کس لئے کہہ رہے ہیں ؟ مثال کے طورپر مسٹر ٹرمپ ونیزویلا میں امریکی فوجیوں کو رات دیرگئے اچانک اُتارکر اُس کے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کا اغواء کرواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ونیزویلا کا صدر ہوں ۔ اب ٹرمپ کے ایک اور بیان نے عالمی سطح پر اُن کی ذہنی حالت سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ انھوں نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کو حیران کردیا کہ ایرانیوں نے اُنھیں اپنا ( ایران کا ) سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی لیکن انھوں نے شکریہ کے ساتھ اس پیشکش کو ٹھکرادیا ہے ۔ کیا ایرانی اتنے بیوقوف ہیں کہ وہ ٹرمپ کو اپنا سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کریں؟ ایرانیوں نے صدر ٹرمپ کا مضحکہ اُڑاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکیوں کی طرح نہیں کہ ٹرمپ کو ایسی پیشکش کریں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ٹرمپ کی ذہنی حالت کیا ہے ؟
خیر اب امریکیوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو بیوقوف بناکر اسرائیل کی لڑائی لڑنے پر مجبور کیا جس سے ساری دنیا میں امریکہ کی رسوائی ہوئی ۔ سی آئی اے کے کم از کم دو سابق سربراہوں کے مطابق ٹرمپ کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں پھنسادیا ہے جس سے باہر نکلنا فی الوقت مشکل ہے ۔ ایک اور خبر یہ ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کیلئے ایران کو جو 15 نکاتی تجویز پاکستان کے ذریعہ روانہ کی تھی ایران نے اس کا جواب دے دیا ہے ۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجاویز غیرمنصفانہ اور یکطرفہ ہے اور جس میں امریکی و اسرائیلی مفادات کاتحفظ کیا گیا ہے ۔ جہاں تک ہمارے وطن عزیز ہندوستان کا سوال ہے اسرائیل سے قربت کے باوجود نریندر مودی امریکہ سے قربت حاصل کرنے اور عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہے جبکہ امریکہ مودی پر پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے ۔ اس بات کے بھی پورے پورے امکانات پائے جاتے ہیں کہ ایران اور امریکی نمائندوں کی اہم ترین ملاقات پاکستان کے اسلام آباد میں ہوسکتی ہے ، راہول گاندھی جیسے کانگریس قائدین کہہ چکے ہیں کہ مودی جی نے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ متاثر کرکے رکھ دی ۔ ہندوستان کی اہمیت گھٹاکر رکھ دی اسی طرح جس طرح ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر خطرناک حد تک گرگئی ہے ۔ آج ایک ڈالر 94.29 ہندوستانی روپئے کے برابر ہوگیا ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں روپئے کی بدترین گراوٹ ہے ۔ اس بارے میں کوئی بھی مودی حکومت کے خلاف منہ کھولنے یا کچھ بولنے کی جرأت نہیں کرپارہا ہے ۔