غزہ : غزہ پر اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری میں 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 70 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے ۔ قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ جمعے کی صبح سے اب تک اسرائیلی فورسز نے متعدد گھروں، خیمہ بستیوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے فوری انتباہ جاری کیا ہے کہ غزہ کو اب خوراک کی ضرورت ہے ، کیونکہ لاکھوں افراد کو بھوک کا خطرہ ہے ۔ غزہ میں ‘الجزیرہ’ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے لوگ ‘نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکے ’ ہیں، اور امدادی سامان کی فراہمی پر اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے اپنے بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 18 ماہ قبل غزہ پر مسلط کردہ اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں کم از کم 51 ہزار 65 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 16 ہزار 505 زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ حکومت کے میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتائی ہے اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حماس کی زیر قیادت 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں ہونے والے حملوں میں کم از کم ایک ہزار 139 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تازہ ترین ڈرون حملہ وسطی غزہ میں بریج پناہ گزین کیمپ پر کیا گیا۔ فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق ایک نوجوان جس کی شناخت اکرم الحواجری کے نام سے ہوئی ہے ، بریج کیمپ کے داخلی راستے کے شمال میں واقع الفزب مارکیٹ کے قریب ڈرون حملے میں شہید ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے وسطی غزہ میں بریج کیمپ کے جنوب میں واقع قریب واقع مغازی پناہ گزین کیمپ پر گولہ باری کی ہے ۔
یواین آئی ڈی او کی امریکی ٹیرف میں اضافہ پر تنقید
ویانا : اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (یواین آئی ڈی او) نے جمعہ کو اپنی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا، جس میں عالمی اقتصادی ترقی اور صنعتی ترقی پر حالیہ امریکی ٹیرف میں اضافہ کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ یواین آئی ڈی او نے زوردے کر کہا کہ ٹیرف میں اضافہ “غلط طریقہ اختیار کرتا ہے “، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ان کے حساب اور عمل درآمد میں ان کے مطلوبہ نتائج کے حصول کی حمایت کرنے کیلئے ثبوت کی کمی ہے ۔ آرٹیکل کے مطابق یہ ٹیرف صنعتی پیداوار کی لاگت کو بڑھاتے ہیں، جس سے معاشی کارکردگی میں کمی، تجارتی منافع میں کمی اور مسابقت کمزور ہوتی ہے ۔یواین آئی ڈی او نے خبردار کیا کہ اس طرح کی پالیسیاں بالآخر دنیا بھر میں ملازمتوں کو خطرہ میں ڈال دیں گی۔
جس کے باعث کمزور ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ۔