ریاض: وزیر خارجہ امریکہ انٹونی بلنکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کا دورہ بھی کریں گے تاکہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز تل ابیب میں کہی ہے۔بلنکن نے اسرائیل کا ہنگامی دورہ کیا ہے اور اسرائیل کی جنگی صورتحال میں پوزیشن کو سمجھتے ہوئے اسرائیلی ضروریات کا جائزہ لیا ہے۔وہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے میں کوئی غیر معمولی حالات سامنے نہ آ جائیں۔ ان کے دورے کے منصوبے میں سعودی عرب کے علاوہ قطر، مصر، متحدہ عرب امارات بطور خاص شامل ہیں۔وہ خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشورہ کریں گے تاکہ اسرائیل اور حماس کے تصادم کو پھیلنے سے روکنے کی تدابیر بروئے کار لائی جا سکیں۔ حماس سے مغویان کو بحفاظت رہائی دلوائی جا سکے اور خطے میں پہلے سے جاری امریکی حکمت عملی کو کوئی نقصان نہ ہو۔امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق مغویان کی رہائی اور عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ پیش نظر ہے۔ بلنکن کے مشرق وسطی کے اگلے مرحلے کے دورے میں اس سلسلے میں میکانزم پر غور ہو گا۔ امریکی ترجمان کے مطابو وزیر خارجہ بلنکن علاقے میں اپنے پارٹنرز کو ساتھ ملائیں گے۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی اسرائیل سے جڑے سمندر میں تعیناتی کا حکم دیا ہے تاکہ سویلین کا تحفظ کیا جا سکے۔ واضح رہے امریکہ پہلے ہی اسرائیل کو اس جنگ میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکا ہے۔