اسرائیل ۔حماس کے درمیان غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

   

مسلم ‘یہودی اسٹارس سمیت 400 سے زائد ہالی ووڈ فنکاروں کا امریکی صدر جو بائیڈن کو مکتوب

واشنگٹن: ایوارڈ یافتہ ہالی و وڈ اداکاروں سمیت دیگر معروف فلم اسٹارس، گلوکاروں، سْوپر ماڈلز نے ایک بار پھر امریکی صدر جو بائیڈن سے اسرائیل ۔ حماس کے درمیان جاری تنازعہ کو ختم کرنے کے علاوہ غزہ میں سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔فلسطینی نیوز ایجنسی وفا نیوز کے مطابق ’آرٹسٹ فار سیز فائر‘ کے عنوان سے مکتوب میں گلوکاروں، سْپر ماڈلز سمیت 400 سے زائد اداکاروں نے دستخط کیے جس میں امریکی صدر جو بائیڈن پر زور دیا گیا کہ وہ ’بغیر کسی تاخیر کے جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کریں اور اسرائیل کو غزہ میں جاری بمباری سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے 20 لاکھ لوگ (جن میں نصف بچے اور دو تہائی پناہ گزین ہیں) بے گھر ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں تک انسانی امداد پہنچنے کی اجازت دی جائے۔اس خط میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کی تقریر کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ میں بچے خوراک، پانی، بجلی سے محروم ہیں، غزہ کے واحد پاور پلانٹ میں ایندھن ختم ہوگیا ہے، لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔اس خط میں معروف اداکارہ سیلینا گومز، ماڈل جی جی اور بیلا حدید‘ اداکار بین ایفلیک، بریڈلی کوپر اور چیننگ ٹیٹم، جے شیٹی جیسے بااثر اداکاروں سمیت 400 سے زائد فنکاروں، آرٹسٹ، لکھاریوں، فلم سازوں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد نے امریکی حکومت کے نام اقوام متحدہ (یو این) کے قوانین کی روشنی میں خط لکھا۔ہا لی ووڈ اداکاروں کی جانب سے یہ تیسرا خط ہے۔ اس سے قبل جو بائیڈن کو دو خطوط بھیجے جاچکے ہیں۔اس خط سے قبل دیگر کم از کم 55 ہالی و وڈ اداکاروں، پروڈیوسرز نے جو بائیڈن کو خط لکھ کر ان سے جنگ بند کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔خط میں مسلمان اداکار رز احمد اور ریمی یوسف سمیت دیگر اداکاروں کے دستخط بھی شامل تھے جب کہ خط میں یہودی اداکاروں اور شخصیات سمیت دیگر مذاہب اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے دستخط بھی تھے۔اس سے قبل گزشتہ ماہ برطانوی شوبز شخصیات نے بھی اپنی حکومت سے اسرائیل۔حماس ’جنگ‘ بند کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی صدر کو بھیجے گئے خط میں ہالی و وڈ شخصیات نے جو بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو بند کرانے میں کردار ادا کریں تاکہ مزید انسانی جانیں ضائع نہیں ہونی چاہئیں۔اسرائیل کی جانب سے کئی دہائیوں تک فلسطینیوں پر بمباری کے بعد 7 اکتوبر سے تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے ۔ حماس کی جانب سے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ اسرائیلی جارحیت میں اب تک 9 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جاچکے ہیں، حال ہی میں اسرائیل نے ہاسپٹلس، اسکول، پناہ گزین کیمپ پر حملے کیے تھے جن میں درجنوں بچوں سمیت کئی افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ اور مغربی کنارے کے علاقوں میں مسلسل بمباری سے نہ صرف عمارتوں کو نقصان ہورہا ہے بلکہ خواتین اور معصوم بچوں سمیت بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہورہی ہیں ۔