اسرائیلی جنگی طیاروں کی غزہ پٹی پر بمباری

,

   

درجنوں عمارتیں اور کئی ایکڑ پر محیط فصلیں تباہ، حماس پر راکٹ حملہ کا الزام

غزہ پٹی: اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں درجنوں عمارتیں اور کئی ایکڑ پر محیط فصلیں تباہ ہوگئی۔ اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے خان یونس پر حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم حملہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہیکہ فضائی بمباری غزہ کی جانب سے اسرائیلی زمین پر ایک راکٹ داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔ حماس کی طرف سے داغے گئے راکٹ کو اسرائیل کے دفاعی نظام نے فضاء میں ہی ناکارہ بنادیا تھا۔ حماس نے اسرائیل کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ حماس نے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے کئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ خان یونس میں ایک سرنگ کو تباہ کیا گیا ہے جو غزہ سے اسرائیل میں کھلتی ہے اور جس کے ذریعہ عسکریت پسند اسرائیل میں داخل ہو کر شرانگیزی کرتے تھے۔ حماس کے ترجمان نے جواب میں کہا کہ اسرائیلی طیاروں نے خان یونس علاقہ میں آبادیوں اور کھیتوں کو نشانہ بنایا جس سے کئی درجن مکانات تباہ اور کئی ایکر پر پھیلی ہوئی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان ایویچھے ایروی نے ٹوئیٹر پر کہا کہ غزہ میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس تعلق سے ساری دنیا جب نظرانداز کرتی ہے تو اسرائیل کو سخت قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ اسرائیل نے غزہ پر اس وقت بمباری کی جب یو اے ای، بحرین نے اسرائیل سے معاہدہ کیا ہے۔ فلسطینی عینی شاہدوں نے کہا کہ خان یونس اور دیئر ال بلاہ میں تین میزائل گرائے گئے۔ اسرائیل پر داغے گئے راکٹ کیلئے کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی فلسطینی اتھاریٹی نے اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک اور ترجمان جوناتھن نے کہا کہ خان یونس میں جو سرنگ ملی ہے اس کے تعلق سے یہ پتہ نہیں چلا کہ اس سرنگ کو کس نے بنایا ہے۔ تاہم فلسطینی علاقوں میں اس طرح کی تمام سرگرمیوں کیلئے حماس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ فلسطینی اس طرح کے زیرزمین سرنگوں کو استعمال کرتے ہوئے غزہ میں تجارتی اشیاء کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔