اسرائیلی فوج اور فلسطینی مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں جاری

   

یروشلم : 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں کے بعد،خطے میں فلسطینی مسلح گروپوں اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مغرب میں الشاطی پناہ گزین کیمپ اور شمال میں جیبالیہ کے علاقوں پر رات بھر کی گئی بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے شمال میں واقع کلیندیہ پناہ گزین کیمپ پر چھاپے کے دوران ایک فلسطینی کو شدید زخمی اور دو کو حراست میں لے لیا۔اسرائیلی فوج نے چھاپے کی مخالفت کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف براہ راست گولیوں اور آنسو گیس سے مداخلت کی۔اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے مختلف علاقوں پر بھی فضائی حملے کیے جن میں 9 افراد ہلاک اور کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح میں ہونے والے حملوں میں القسام کی میرین یونٹس کے سینئر رہنما محمد ابو شاملہ مارے گئے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بحری حملوں میں استعمال ہونے والا گولہ بارود شاملہ کے گھر میں چھپایا گیا تھا۔دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ فلسطین میں داغے گئے راکٹوں کی تعداد جاری نہیں کرے گی کیونکہ اس طرح کی معلومات حماس کی مدد کر سکتی ہیں۔غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کرنے والی اسرائیلی فوج نے علاقے کے شمال میں ایک ایمبولینس کو نشانہ بنایا جس میں4 طبی رضا کار ہلاک ہوئے۔اسرائیلی فوج نے مشرقی غزہ میں ایک طبیب کو بھی ہلاک کر دیا۔فلسطینی وزارت صحت نے ایمبولینسوں اور طبی ٹیموں کے لیے فوری بین الاقوامی تحفظ کی درخواست کی۔اسرائیلی پریس کی رپورٹس کے مطابق، غزہ کے قریب اسرائیلی بستی زیکیم میں دراندازی کرنے والے فلسطینی بندوق برداروں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔