اسرائیلی فوج نے شفا ہاسپٹل کے چپہ چپہ کی تلاشی لی

   

غزہ : ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیلی سپیشل فورسز نے غزہ کے شفاء ہاسپٹل کی ہر عمارت اور ہر منزل کی تلاشی لی۔ سینکڑوں مریض اور طلبہ عملہ کمپلیکس میں موجود ہیں۔ رائٹرز کے مطابق صہیونی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپریشن کی بنیاد ایک دہشت گرد انفراسٹرکچر کی موجودگی کے بارے میں ہمارے خیال پر رکھی گئی ہے۔شفا ہاسپٹل میں حماس کے ہتھیار اور آلات ملے ہیں۔ حماس نے غزہ کے ہاسپٹلوں میں بنیادی ڈھانچے کو چھپانے اور شواہد کو چھپانے کیلئے مسلسل کام کیا ہے۔ دوسری طرف حماس نے ان الزامات کی تردید کردی ہے۔ صہیونی فوج کے عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شفا ہاسپٹل کے کمپیوٹر سے حماس کے زیر حراست افراد سے متعلق ویڈیو کلپس ملے ہیں۔عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فوٹیج حماس سے تعلق رکھنے والی ڈیوائسز سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیلی فورسز شفا ہاسپٹل کامپلکس کی تلاشی لی رہی ہیں۔ یہ کامپلکس کئی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اْدھر حماس رہنما اسامہ حمدان نے جمعرات کو کہا کہ حماس اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ ہاسپٹلوں کی حقیقت کا جائزہ لینے اور اسرائیل کی دروغ گوئی پر مبنی بے سرو پا باتوں کو جانچنے کیلئے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں۔اسامہ حمدان نے شفا ہاسپٹل میں کی گئی جارحیت کے جرم میں امریکہ کو براہ راست ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹلوں، بیکریوں کو نشانہ بنانے اور پانی کی ترسیل کو روکنے سے اسرائیل کا مقصد ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے 35 میں سے 25 ہاسپٹلوں کی سروسز کو معطل کردیا ہے۔دوسری طرف ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اسلحہ کی تصاویر شائع کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کو یہ اسلحہ شفا ہاسپٹل کے اندر سے ملا ہے۔
یہ تصاویر جنگی قوانین کے تحت ہاسپٹلوں کے تحفظ کی حیثیت کو روندنے کی اجازت دینے کیلئے کافی نہیں ہیں۔