یروشلم:فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں خاتون جاں بحق ہوگئیں۔وزارت صحت کا کہنا تھا کہ 40 سالہ خاتون کو زخمی حالت میں مغربی کنارے کے شہر بیت جالا کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ خون زیادہ بہ جانے کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکیں۔بیان میں کہا گیا کہ جاں بحق خاتون کی شناخت غادا ابراہیم سباتین کے نام سے ہوئی، جن کے شوہر پہلے ہی انتقال کرچکے تھے اور ان کا 6 ماہ کا بچہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ خاتون ان کی طرف بڑھ رہی تھی تو خبردار کرنے کے لیے سپاہیوں نے ہوائی فائرنگ کی تاہم اسی دوران گولی سیدھے جا کر ان کے جسم میں لگی۔بیان میں کہا کہ خاتون کو طبی امداد کے لیے ہلال احمر کے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ اسرائیل اور مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر جینن میں کارروائی کی تھی، جو دو روز قبل ہونے اسرائیلیوں پر ہونے والے حملے کے بعد شروع کی گئیں کارروائیوں کا حصہ تھی۔دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائی میں دیگر 5 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تل ابیب کے معروف ضلع میں 3 افراد ہلاک اور 10 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے، جس کا الزام اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہری پر عائد کیا تھا۔جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ انہوں نے ملک کے سیکیورٹی اداروں کو ’مکمل آزادی‘ دی ہے کہ 22 مارچ سے جنم لینے والے تشدد کو روکیں۔واضح رہے کہ اسرائیل میں 22 مارچ کے بعد ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک ہوئے، اس میں داعش سے متاثر اور حملہ آوروں سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ رمضان میں بھی اسرائیلی فورسز اور مسجد الاقصیٰ سے منسلک یروشلم کا دورہ کرنے والے فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں، جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روز تک جاری رہنے والے تنازعہ نے جنم لیا تھا۔ 29 مارچ کو بینی براک میں ایک حملہ کیا گیا تھا،یہ علاقہ تل ابیب کے قریب یہودیوں کا گڑھ ہے۔اس حملے میں 2 اسرائیلی شہری، 2 یوکرینی اور ایک عرب اسرائیلی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔