تل ابیب: وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو اسرائیلی مذاکرات کاروں کو یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طے کرنے کیلئے دوحہ میں مذاکرات جاری رکھنے کا اختیار دے دیا۔ قبل ازیں اسرائیل اور حماس حال ہی میں معاہدے میں تاخیر کیلئے ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں حالیہ ہفتوں میں دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے ہیں جس سے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی دوبارہ امید پیدا ہو گئی۔
تاہم گذشتہ ماہ کے آخر میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر رکاوٹیں پیدا کرنے کے الزامات کے باعث معاہدہ دوبارہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔جمعرات کو نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے موساد (جاسوسی ایجنسی)، اسرائیلی دفاعی افواج اور آئی ایس اے (اندرونی سلامتی ایجنسی) کے پیشہ ورانہ وفد کو دوحہ میں مذاکرات جاری رکھنے کا اختیار دے دیا۔دسمبر میں حماس نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات سنجیدہ انداز میں جاری تھے لیکن اسرائیلی مذاکرات کاروں نے نئی شرائط پیش کر دیں جس کی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوئی۔اسرائیل نے فوری طور پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی راہ میں نئی رکاوٹیں حماس نے پیدا کیں۔بالواسطہ مذاکرات کے متعدد ادوار میں ایک معاہدہ طے کرنے کی کوششیں اہم رکاوٹوں کے باعث بار بار ناکام رہی ہیں۔