اسرائیلی وزیر دفاع اور آرمی چیف کے درمیان جھگڑا

   

تل ابیب، 12 اگست (یو این آئی) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر پر الزام لگایا کہ وہ کوآرڈینیشن اور منظوری کے بغیر خود سے ہی فوج پر تقرریاں کررہے ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کے مابین جھگڑے کی تازہ ترین علامت ہے ۔میڈیا کے ذریعے ترقی پانے والے فوجی افسران کی فہرست لیک ہونے کے بعد اسرائیل کٹز نے ایال زمیر پر الزام لگایا۔وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ آئین میں آرمی چیف کو کسی بھی قسم کی تقرریوں یا ناموں پر بحث یا منظوری دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج نے وزیر دفاع کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کو کرنل اور اس سے اوپر کے عہدے پر کمانڈروں کی تقرری کے ضوابط کے تحت اختیار ہے ۔واضح رہے کہ ترقی پانے والوں میں بارک ہیرم بھی شامل ہیں جو اسرائیلی فوج کے آپریشنز ڈویژن کے سربراہ بننے کیلیے تیار ہے ۔اسرائیلی اخبار ہیریٹز کے مطابق بارک ہیرم 7 اکتوبر 2023 کو کیبٹز بیئری کے ایک مکان پر ٹینک اور شیل فائر کے آرڈر دینے کیلیے کے بعد تنازعہ کی زد میں آئے ۔بعد میں انہیں ایک تفتیش کے بعد بے قصور قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک مشکل اور پیچیدہ صورتحال میں پیشہ ورانہ طور پر کام کیا۔