اسلامک کلچرل سنٹر کو قوم کے خواب کی تعبیر بناؤں گی

   

نئی دہلی: انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے آئندہ 11اگست کو ہونے والے انتخابات میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے عہدہ کی امیدوار، اسلامک سنٹر کی تاحیات رکن اور سپریم کورٹ کی معروف و مشہور وکیل ستیہ صدیقی نے مہم کے آخری مرحلہ میں کہا کہ اسلامک کلچرل سنٹر کو ایسا بنانا چاہتی ہوں جو قوم کے خواب کی تعبیر اور ان کی امنگ کے مطابق ہو۔انہوں نے کہاکہ اسلامک سنٹر کے بانیوں کا خواب تھا کہ سنٹر سماج اور قوم کی فلاح و بہبود، نوجوان کی رہنمائی اور تعلیم و ثقافت کا امین ہو لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سمت بہتر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جس کی وجہ سے سنٹر قوم کیلئے اتنا مفید نہیں ہوا جتنا ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہاکہ اس سنٹر کو یہاں پھیلی غلط فہمیوں کا ازالہ اور انٹرفیتھ ڈائیلاگ کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے تھا۔ خاص طور پر اس دور میں اس کی سخت ضرورت ہے ۔ یہاں آپ ہر مسئلہ کا حل بات چیت سے ہی کرسکتے ہیں۔ اسلامک سنٹر اس میں بہت بڑا رول ادا کرسکتا ہے ۔ ستیہ صدیقی نے جو آزاد امیدوار وار ہیں اور جن کا بیلیٹ نمبر 29ہے ، نے کہاکہ اگر یہ ادارہ اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے اور عہدیداران سنجیدگی سے اس مقصد کو آگے بڑھاتے ہیں تو یہ بہت بڑا کام ہوگا اور سماج میں اتحاد پیدا ہوگا اور ملک کی بے تحاشہ ترقی ہوگی۔میں کسی لالچ یا اعزاز کے لئے الیکشن نہیں لڑ رہی ہوں بلکہ میری خواہش اور کوشش اسلامک سنٹر کے ذریعہ قوم کی خدمت کرنا ہے اور اس سنٹر کو قوم کی رہنمائی کا مرکز بھی بناؤں گی۔واضح رہے کہ ستیہ صدیقی سپریم کورٹ کے معروف وکیل سرفراز احمد صدیقی کی اہلیہ ہیں، صدیقی سپریم کورٹ بار ایسیوسی ایشن کی لائف ممبر ہیں، دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی رکن ہیں، نئی دہلی بار ایسوسی ایشن کی بھی رکن ہیں، سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل بار (پرنسپل بینچ) کی رکن کے ساتھ صفدر جنگ کلب کی بھی رکن ہیں۔