واشنگٹن: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ھنیہکی تہران میں شہادت سے متعلق امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہیکہ ان کی شہادت بم پھٹنے سے ہوئی ہے۔ اسماعیل ھنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد تہران میں موجود تھے جہاں ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا۔ نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں جس کمرے میں اسماعیل ھنیہ موجود تھے وہاں بم پہلے سے نصب کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا۔ اخبار نے ذرائع کے حوالہ سے دعویٰ کیا ہیکہ اسماعیل ھنیہجس گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ ایران کے پاسداران انقلاب فورس کی زیر نگرانی ایک وسیع کمپاؤنڈ میں واقع ہے اور وہاں پر 2 ماہ قبل ہی بم پہنچا دیا گیا تھا۔ ایران نے اب تک اسماعیل ھنیہ کی شہادت کی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ اخبار کے مطابق اسماعیل ھنیہ اس سے قبل بھی تہران آمد پر مذکورہ گیسٹ ہاؤس میں قیام کرچکے تھے۔یہ واقعہ ایرانی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی بہت بڑی ناکامی اور پاسداران انقلاب کے لیے باعث شرمندگی ہے۔یہ واضح نہیں ہوسکا کہ گیسٹ ہاؤس میں بم کس طرح چھپایا گیا ۔تاہم ذرائع نے امریکی اخبار کو بتایا کہ اس قتل کی منصوبہ بندی میں مہینوں لگے۔