اسپاٹ فکسرز کی واپسی پر رمیض راجا شدید برہم

   

کراچی۔14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کئی باصلاحیت کھلاڑی ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن اس کے کھلاڑیوں نے اسپاٹ فکسنگ کرکے اپنے ملک کی ناک بھی کٹائی ہے۔ آکاش چوپرا اور پاکستان کے سابق کپتان رمیض راجا کے درمیان اس مسئلے پر بھی بات ہوئی۔ اس دوران رمیض بری طرح برہم ہوگئے اور انہوں نے پی سی بی اور اس کے رویے پر سوالیہ نشان بھی کھڑے کردئے۔آکاش چوپڑا نے رمیض راجا سے میچ فکسنگ مں ملوث کھلاڑیوں کو معاف کرنے کی پالیسی بی کی ذہینت پر سوال پوچھا۔ جس کے بعد رمیں راجا بہت غصے میں آگئے۔ رمیض راجا نے کہا میرا شروع سے ماننا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو کبھی دوبارہ موقع نہیں ملنا چاہئے۔ چاہے وہ کتنا بھی بڑا کھلاڑی کیوں نہ ہو۔ ہم ان کی واپسی کرکے ان کرکٹروں کی توہین کرتے ہیں جو اپناکھیل بیحد ایمانداری کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ حالانکہ پی سی بی کا رویہ ہی الگ ہے۔ وہ باصلاحیت کھلاڑی کو زیادہ غلطیاں کرنے کی جھوٹ دیتے ہیں اورکمزور کھلاڑی کو وہ چھوٹی۔چھوٹی غلطی پر بھی ٹیم سے باہر کردیتے ہیں۔ پاکستان میں تو انہیں بہت جلدی معافی مل جاتی ہے۔رمیض راجا نے مزید کہا کہ میرا خون کھولتا ہے جو کھلاڑی میچ فکسنگ میں پھنستا ہے وہ پاکستانی میڈیا میں بطور ماہر معلومات بانٹتا ہے۔ وہ اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ ابھی شرجیل خان نے واپسی کی ہے اور اچانک اس کی تعریف ہونے لگی ہے۔ باقی کھلاڑیوں کا کیا قصور ہے جو اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں اور ہم ان کھلاڑیوں کو دوبارہ موقع دے رہے ہیں جو فکسنگ کرتے ہیں۔ میرا تو دل تڑپ جاتا ہے جب کمینٹری کے دوران ان کھلاڑیوں کی تعریف کرنی پڑجاتی ہے۔ میں اگر پی سی بی میں طاقتور عہدے پر ہوتا توکبھی ان کی واپسی نہیں پوپاتی۔