اسپین میں 50 سے زائد یہودی مسافروں کو طیارہ سے اتارا گیا

   

میڈرڈ۔ 27 ستمبر (یو این آئی) اسپین کے والنسیا ایئرپورٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے ، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 50 سے زائد یہودی مسافروں کو طیارہ سے اتار دیا گیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی مسافروں کو طیارے سے اتارنے کا واقعہ جولائی کے ماہ میں پیش آیا تھا، جب مسافروں نے عملے کی ہدایات کو نہیں مانا اور عبرانی زبان میں گانے گانا شروع کردیئے ۔ رپورٹس کے مطابق طیارہ کے عملے نے ان کو دو بار روکنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ نہیں رکے تو پولیس طلب کی گئی اور سب کو طیارہ سے اترنے کا حکم دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیمپ ڈائریکٹر کو زمین پر جھکایا گیا، ہاتھ باندھے گئے اور گرفتار کیا گیا، حالانکہ بعد میں مبینہ طور پر اسے نامکمل دستاویز پر چھوڑ دیا گیا۔ Vueling ایئرلائن کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امتیازی رویہ نہیں بلکہ طیارے میں شور، ایمرجنسی آلات کے استعمال اور بورڈنگ کے دوران عملے کی ہدایات کی خلاف ورزی تھی، یعنی بہت زیادہ ڈسٹرب کرنے والا رویہ تھا۔جس سے دیگر مسافر پریشان ہورہے تھے ۔ اسپین کے سول گارڈ نے کہا ہے کہ عملے نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ حکم کی خلاف ورزی کا سلسلہ روک نہیں پارہے تھے ، انہیں مذہبی پس منظر کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔