جھوٹے الزامات سے دستبرداری ،معذورت خواہی اور 10کروڑ معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد 23جنوری ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی اسپیکر جی پرساد کمار نے بی آر ایس کے سینئر قائد سابق رکن اسمبلی ایم آنند کو لیگل نوٹس روانہ کرکے ان کے الزامات کو بے بنیاد جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ۔ اپنے وکیل کے ذریعہ روانہ قانونی نوٹس میں اسپیکر نے کہا کہ جمہوریت میں دستور نے تنقید کی آزادی ضرور دیتا ہے لیکن دستوری عہدے پر فائز شخص کے خلاف ب بنیاد الزامات لگانا نہ صرف اعلیٰ منصب کی توہین بلکہ ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف بھی ہے ۔ اسپیکر نے کہا کہ ایسے بدنیتی پر مبنی اقدامات کو نہ سماج کی تائید حاصل ہوگی اور نہ ہی عدالتوں کو قبول ہوگا ۔ جی پرساد کمار نے کہا کہ آنند کی جانب سے 14 اور 19جنوری کو منعقدہ پریس کانفرنس میں ان پر کرپشن ، رشوت خوری اور ایم ایل اے کی نااہلی کے معاملے میں سینکڑوں کروڑ روپئے لینے جیسے الزامات عائد کئے گئے جو سراسر جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں پر مبنی ہے ۔ انہوں نے الزامات کو آئینی عہدے کی کھلی توہین قرار دیا ۔ نوٹس میں ذکر کیا گیا کہ 14 جنوری کی پریس کانفرنس میں اسپیکر کو طنزیہ انداز میں ’ بلٹ کنگ ‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا اور سرکاری عہدیداروں ، ملازمین و کنٹراکٹرس سے رشوت لینے جیسے الزامات لگاکر ان کے ذاتی وقار اور جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی گئی ۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ وہ نچلی سطح سے سیاست میں آئے ہیں اور اس وقت قانون ساز اسمبلی کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں جبکہ وہ اسمبلی حلقہ وقارآباد کی ترقی اور عوامی مسائل کیلئے مسلسل فنڈز کی منظوری دے رہے ہیں ۔ ایسے میں ان کے خلاف جھوٹے الزامات ناقابل قبول ہیں ۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ بی آر ایس قائد ایم آنند اندرون 7 دن اپنے الزامات سے دستبردار ہوجائے اور ان سے معذورت خواہی کریں اور ذہنی اذیت پر 10کروڑ روپئے معاوضہ ادا کریں ، بصورت دیگر تعزیرات ہند 2023 کی دفعات 499 اور500 کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ۔2