نئی دہلی: دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے سابق وزیر اعلیٰ آتشی کے خط کا جواب دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہیکہ وزیر اعلیٰ رہنے کے باوجود وہ ایوان کے قواعد سے بے خبر ہیں۔ آتشی نے گپتا کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے 25 فروری کو اے اے پی کے 21 ممبران اسمبلی کی معطلی اور اس کے بعد ودھان سبھا کے احاطے میں گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے مظاہرہ کرنے کی اجازت نہ ملنے پر سوال اٹھایا تھا۔ اس کے جواب میں گپتا نے آتشی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہیکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی 12سال سے حکومت چلا رہی تھی اور وہ ایوان کے قواعد سے بے خبر ہے۔گپتا لکھاکہ اسمبلی کے قواعد میں ایوان کی حد بندی کی وسیع پیمانے پر وضاحت کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ قانون ساز اسمبلی کے قواعد کے مطابق ایوان کی حد بندی میں قانون ساز اسمبلی، لابی، گیلری، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے چیمبرز، کمیٹی رومز، لائبریری، اسٹڈی روم، مختلف جماعتوں کے کمرے ، قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کے زیر استعمال کمرے ، قانون ساز سکریٹریٹ حکام کے کنٹرول میں آنے والے تمام احاطے ان تک جانے والے راستے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ، قاعدہ 277، پوائنٹ 3(d) واضح طور پر یہ کہتا ہے ، جس رکن کو ایوان کی خدمت سے معطل کیا گیا ہو اسے ایوان کے احاطے میں داخل ہونے اور ایوان اور کمیٹیوں کی کارروائی میں حصہ لینے سے روک دیا جائے گا۔