اسکولس میں طلبہ اور ٹیچرس کو رونا وائرس سے متاثر

,

   

والدین بچوں کو اسکولس روانہ کرنے کے معاملے میں ڈر و خوف میں مبتلا

حیدرآباد :۔ اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد طلبہ اور ان کے والدین و سرپرستوں میں تشویش کی لہر بڑھ گئی ہے ۔ کئی والدین اپنے بچوں کو اسکولس روانہ کرنے کے معاملے میں ڈر و خوف میں مبتلا ہیں ۔ بالخصوص ہاسٹل سہولت کے ساتھ چلائے جانے والے تعلیمی ادارے کستوربا گاندھی گرلز اسکولس ( کے جی بی وی ) ریزیڈنشیل اسکولس کو روانہ کرنے میں ڈر و گھبراہٹ محسوس کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ یکم فروری سے نویں اور دسویں جماعت جماعتوں کی باضابطہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے ۔ اسکولس میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود طلبہ کی حاضری کا تناسب ( 75-80 ) فیصد ہے ۔ گذشتہ ماہ 24 فروری سے چھٹویں تا آٹھویں جماعتوں کے بھی باضابطہ کلاسیس کا آغاز ہوا ہے ۔ ان کلاسیس میں طلبہ کی حاضری کا تناسب 50 فیصد بھی نہیں ہے ۔ ہاسٹل سہولت کے ساتھ چلائے جانے والے ریزیڈنشیل اسکولس اور کے جی بی وی میں طلبہ کے حاضری کا تناسب 20 فیصد تک محدود ہے ۔ حال ہی میں ضلع سنگار یڈیی کے ایک کے جی بی وی اسکول میں 19 طلبہ کورونا سے متاثر ہوگئے ۔ جس سے بچوں کے والدین میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ۔ ریاست کے مختلف مقامات پر کے جی بی وی ، سرکاری و خانگی اسکولس میں طلبہ و اساتذہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ ضلع عادل آباد کے بوتھ ایس ٹی ریزیڈنشیل گرلز اسکول میں 7 طالبات کورونا سے متاثر ہوئے ۔ ضلع عادل آباد ہیڈکوارٹر پر ایک طالبہ کورونا سے متاثر ہوئی۔ ضلع وقار اباد کے اقلیتی اقامتی اسکول کے تین ٹیچرس کورونا سے متاثر ہوئے ضلع نرمل کے لکشمن چندہ منڈل میں دو ٹیچرس کورونا سے متاثر ہوئے ۔ ضلع جگتیال کے کورٹلہ منڈل میں ضلع پریشد ہائی اسکول کے دو ٹیچرس کورونا سے متاثر ہوئے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے ۔ دھرما پور منڈل ہیڈکوارٹر گورنمنٹ گرلز اسکول کی ایک ٹیچر کورونا سے متاثر ہوئی ۔ ورنگل اربن ضلع میں دو طلبہ بھدرداری کتہ گوڑم میں ایک ٹیچر اس طرح طلبہ اور ٹیچرس کے کورونا سے متاثر ہونے کے واقعات پر والدین اپنے بچوں کو اسکولس روانہ کرنے کے معاملے میں تشویش میں مبتلا ہے ۔۔