جاریہ تعلیم سال سہولت فراہم کرنے کا محکمہ تعلیم لے رہا ہے جائزہ
حیدرآباد :۔ محکمہ تعلیم جاریہ تعلیمی سال 2020-21 میں طلبہ کے اسکولس میں حاضری کے بغیر صرف امتحانی فیس کی ادائیگی کے ساتھ دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات تحریر کرنے کی سہولت فراہم کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے ۔ اس سلسلہ میں وسیع تر مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کرنے کا امکان ہے ۔ فی الحال دسویں جماعت کا امتحان تحریر کرنے کے لیے کسی بھی ایک اسکول میں تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے ۔ ان اسکولس کے ذریعہ ہی طلبہ کی تفصیلات حکومت کے امتحانی شعبہ (ایس ایس سی بورڈ ) کو فراہم کی جاتی ہے ۔ کورونا بحران کے باعث اسکولس بند ہیں خانگی اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین کی معاشی صورتحال کا موقف کمزور ہے ۔ کئی ایسے بھی خاندان ہیں جو فیس ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ آن لائن کلاسیس کا اہتمام کرنے والے چند خانگی اسکولس فیس کے لیے والدین پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ فیس ادا نہ کرنے والوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جارہا ہے ۔ چند خانگی اسکولس انجان بھی ہورہے ہیں ۔ ایسی صورت میں محکمہ تعلیم اندیشہ ظاہر کررہا ہے کہ آخر میں مکمل فیس کی عدم ادائیگی پر امتحان تحریر کرنے کی اجازت نہ دینے کا طلبہ اور ان کے والدین پر خانگی اسکولس دباؤ ڈال سکتے ہیں ۔ عہدیدار فیس ادا نہ کرنے والے طلبہ کو ترک تعلیم سے بچانے کے لیے ٹی وی پر دی جانے والی آن لائن تعلیم سے استفادہ کرتے ہوئے دسویں جماعت کے امتحانات تحریر کرنے کی اجازت دینے کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ محکمہ تعلیم کے عہدیدار کورونا وباء کے دوران معاشی بحران سے دوچار رہنے والے طلبہ کے والدین و سرپرستوں پر مزید بوجھ عائد کئے بغیر راست طور پر ایس ایس سی بورڈ کو امتحانی فیس ادا کرتے ہوئے ہال ٹکٹ کے حصول کے بعد امتحانات تحریر کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ سال 2015 سے ( سی سی ای ) سسٹم پر عمل کیا جارہا ہے ۔ جس کے تحت اسکولس 20 نشانات انٹرنل مارکس دیتے ہیں اگر کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو انٹرنل مارکس کو منسوخ کرنے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ یعنی جاریہ تعلیمی سال میں منعقد ہونے والے چار فارمنٹس ( ایف اے ) کو منسوخ کرنے کے معاملے میں حکومت کو فیصلہ کرنا ہے ۔ ہر سال 5.50 لاکھ طلبہ دسویں جماعت کا سالانہ امتحانات تحریر کرتے ہیں ۔ جس میں 3 لاکھ سے زیادہ طلبہ خانگی اسکولس کے ہوتے ہیں ۔۔