اسکولوں میں کورونا کیسوں کے نتیجہ میں اولیائے طلبہ تشویش کا شکار

   


چھٹویں جماعت سے کلاسس کے آغاز کی مخالفت، مختلف اضلاع میں اسکولی طلبہ کورونا سے متاثر
حیدرآباد: حکومت نے کورونا کیسس میں کمی کے پیش نظر چھٹویں جماعت سے باقاعدہ کلاسس کے آغاز کا فیصلہ کیا لیکن اولیائے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس فیصلہ پر نظرثانی کرے کیونکہ ریاست کے مختلف اسکولوں میں کورونا کیسس میں اضافہ درج ہوا ہے۔ کئی اضلاع میں اسکولی طلبہ کے کورونا سے متاثر ہونے کے واقعات کے منظر عام پر آتے ہی سرپرستوں میں خوف کا ماحول دیکھا جارہا ہے اور وہ اپنے بچوں کو کلاسس کیلئے اسکول کرنے تیار نہیں ہے ۔ حکومت کی سطح پر اولیائے طلبہ کی تنظیموں نے نمائندگی کرتے ہوئے چھٹویں تا آٹھویں جماعت کیلئے آن لائین کلاسس جاری رکھنے کی درخواست کی ہے ۔ حکومت نے نویں جماعت سے پوسٹ گریجویشن تک کلاسس کا پہلے ہی آغاز کردیا ہے ۔ سرپرستوں کا کہنا ہے کہ کورونا قواعد کے تحت کلاسس کے اہتمام کے نتیجہ میں اسکولوں میں کلاس رومس کی تعداد ناکافی ہے۔ لہذا چھٹویں تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لئے سماجی فاصلہ کے ساتھ کلاسس کا اہتمام ممکن نہیں ہے ۔ سرپرستوں نے کہا کہ مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں کورونا کیسس میں اضافہ کے پیش نظر وہ اپنے بچوں کو خطرہ میں ڈالنا نہیں چاہتے ۔ کلاسس کے آغاز کا 24 فروری کو آغاز ہوا لیکن کسی بھی اسکول میں طلبہ کی تعداد حوصلہ افزا نہیں ہے ۔ سرکاری اسکولوں کی صورتحال خانگی اسکولوں سے بھی ابتر ہے۔ 18 فروری کو سماجی بھلائی اقامتی اسکول کے 26 طلبہ میں کورونا پازیٹیو پایا گیا تھا۔ طلبہ کو گچی باؤلی کے ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ۔ اسی طرح ضلع پریشد ہائی اسکول ردرارم کے 24 طلبہ کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ اولیائے طلبہ اور رضاکارانہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھٹویں جماعت سے کلاسس کے آغاز کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کی جائے ۔