متھرا، 2 فروری (یو این آئی) اتر پردیش کے ضلع متھرا کے پرائمری اسکول نوہجھیل میں تعینات ہیڈ ماسٹر کو طلبہ کو زبردستی نماز پڑھانے اور ایک مخصوص مذہب کی تبلیغ و ترویج کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے ۔ بیسک ایجوکیشن آفیسر (بی ایس اے ) متھرا نے الزامات کو سنگین مانتے ہوئے متعلقہ ہیڈ ماسٹر کو فوری اثر سے معطل کر دیا ہے ۔بی جے پی باجنا منڈل کے صدر درگیش پردھان کی جانب سے بی ایس اے کو دی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہیڈ ماسٹر جان محمد بچوں کو بہلا پھسلا کر اسلام مذہب کی طرف راغب کرتے تھے اور اسکول کے احاطے میں نماز پڑھواتے تھے ۔ شکایت میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں قابلِ اعتراض تبصرے اور اسکول میں قومی ترانہ کا اہتمام نہ کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسکول کے احاطے میں باہر کے افراد کے آنے اور بچوں پر مذہبی اثر ڈالنے کی بات بھی کہی گئی ہے ۔بی ایس اے دفتر سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق بلاک ایجوکیشن افسر کی رپورٹ کی بنیاد پر ہیڈ ماسٹر کو معطل کر کے پرائمری اسکول نگلا ہمایوں، مانٹ سے منسلک کر دیا گیا ہے ۔ معاملے کی تفصیلی جانچ کے لیے بی ای او چھاتا اور بی ای او مانٹ پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تشکیل دے کر جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔محکمے نے کہا ہے کہ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کی جائے گی۔