کسانوں کی فلاح و بہبود اور شعبہ زراعت کی ترقی کیلئے مودی کی زیرصدارت کابینی اجلاس میں اہم فیصلے
نئی دہلی۔ 3 جون (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی کابینہ نے اشیائے ضروریہ قانون میں ترمیم کو آج منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک تاریخی ترمیم ہے جس کی منظوری سے کسانوں کو کئی فوائد حاصل ہوں گے جبکہ شعبہ زراعت کو فروغ حاصل ہوگا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت آج منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں تقریباً 65 سال قدیم اشیائے ضروریہ قانون میں ترمیم کو منظوری دی گئی ہے جس کے ذریعہ غذائی اشیاء کو باقاعدہ بنایا جائے گا جن میں اناج، دالیں اور پیاز شامل ہیں۔ حکومت کے اس اقدام سے زرعی شعبہ میں زردست تبدیلی آئے گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے فارمی پراڈکٹ ٹریڈ اینڈ کامرس آرڈیننس 2020ء کو بھی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعہ زرعی شعبہ کی رکاوٹوں کے بغیر تجارت کو یقینی بنایا جائے گا۔ کابینہ نے کسانوں کو بااختیار بنانے اور ان کے تحفظ سے متعلق معاہدے کو بھی منظوری دے دی ہے جو قیمتوں کے تعین اور زرعی خدمات آرڈیننس 2020ء پر مشتمل ہے۔ کابینہ کے فیصلوں سے واقف کرواتے ہوئے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے بتایا کہ کابینہ کے فیصلوں سے ملک کے کسانوں کو مدد ملے گی اور زرعی شعبہ میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ آرڈیننس کی منظوری سے بین ریاستی زرعی اشیاء کی تجارت میں رکاوٹیں دور ہوں گی۔ کابینہ کے فیصلوں سے کسانوں کو اشیاء کی پروسیسنگ کرنے والوں، بڑے ریٹیلر اور ایکسپورٹرس کے ساتھ معاملت کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کسانوں کو ان کے استحصال کے خوف کے بغیر معاملت کیلئے سازگار ماحول فراہم ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ی تجاویز کورونا وائرس وباء کے باعث لاک ڈاؤن کے متاثرین کی مدد کیلئے اعلان کردہ 20 لاکھ کروڑ روپئے کے اقتصادی پیاکیج کا حصہ ہیں۔ کابینہ نے ان فیصلوں کے ساتھ صارفین کے مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے۔ جن ترامیم کو آج منظوری دی گئی ہے، ان سے قیمتوں کے استحکام میں کسانوں اور صارفین دونوں کو مدد ملے گی۔ اس سے ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کی کمی کے باعث زرعی اشیاء کو ضائع ہونے سے بھی روکا جاسکے گا۔ کسانوں کو اپنی زرعی اشیاء کی مارکیٹنگ کرنے کیلئے مختلف تحدیدات کے سبب مشکلات کا سامنا تھا۔ اے پی ایم سی مارکٹ یارڈس سے باہر زرعی اشیاء کی فروخت پر پابندی تھی۔ انہیں ریاستی حکومتوں کے لائسنس یافتہ افراد کو ہی اپنی اشیاء فروخت کرنے کی اجازت ہے۔ آرڈیننس کی منظوری سے سازگار ماحول پیدا ہوگا جہاں کسان اور تاجرین زرعی اشیاء کی خریدی اور فروخت کیلئے آزاد ہوں گے۔