اراکین کا واک آؤٹ مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا ۔ واپس آکر بحث میں حصہ لینے کی ضرورت
نئی دہلی: راجیہ سبھا کے چیرمین ایم وینکیا نائیڈو نے منگل کو اراکین سے اصولوں اور روایات کے مطابق ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے ۔معطل اراکین کی معطلی منسوخ نہ کئے جانے کے احتجاج میں اپوزیشن پارٹیوں کے ایوان سے واک آؤٹ کرنے کے بعد مسٹر نائیڈو نے کہا کہ اراکین کو ایوان میں لوٹنا چاہئے اور بحث میں حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار اراکین معطل ہوئے ہیں۔اپوزیشن کو حکومت سے سوال کرنے چاہئے اور حکومت کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ ایوان میں ایک نئی سوچ رواج پا رہی ہے جو باعث تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں سبھی لوگ اصول کے مطابق کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین معطل ہوئے ہیں،آخر میں وہ ہمارے رکن ہیں۔انہیں سمجھنا چاہئے کہ جو کام انہوں نے کیا ہے وہ ناقابل قبول ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ وہ ایوان چلانا چاہتے ہیں اور سبھی اراکین کو ایوان کی کارروائی میں حصہ لینا چاہئے ۔وہ بحث کریں اور فیصلہ کریں۔ ایوان کی کارروائی میں رخنہ نہ ڈالیں۔یہ صحتمند روایت نہیں ہے ۔چیرمین نے کہا کہ بنچ پر الزام لگانے والے ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے ۔ اراکین اپنی بات کہنے کے لئے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب چیرمین ہری ونش نے آج ہی انہیں ایک مکتوب لکھا ہے اور کئی مشورے دیئے ہیں۔ زرعی اصلاحات سے متعلق بلوں کو پاس کرانے کے عمل کے دوران اراکین نے نائب چیرمین کے ساتھ جو برتاؤ کیا اس پر وہ غور کریں۔مسٹر نائیڈو نے کہا کہ غیر معیاری برتاؤ کرنے والے اراکین کے ساتھ ہری ونش نے گاندھیائی طریقہ اختیار کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا دینے والے اراکین کے لئے ہری ونش آج صبح اپنے گھر سے چائے بناکر لائے اور انہیں پلائی بھی۔ چیرمین نے کہا کہ زرعی اصلاحات بلوں کو پاس کرانے کے عمل کے دوران نائب چیرمین پر الزام لگائے گئے اور گالی گلوج کی گئی اور اب اسے صحیح ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ سے نائب چیرمین کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہری ونش کا گاندھیائی طریقہ اپنانا جمہوریت کے لئے اچھی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات کے بلوں پر بحث کے دوران نائب چیرمین نے 13 بار کہا کہ ان بلوں پر جو اراکین ووٹوں کی تقسیم کرانا چاہتے ہیں وہ اپنی سیٹ پر جائیں،لیکن ایوان میں ہنگامہ جاری رہا۔