نئی دہلی: سپریم کورٹ منگل کو سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کر رہی ہے۔ اترپردیش حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 88 ویں کیس میں ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے، لیکن ان کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس لیے انہیں جیل سے رہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ ایک ہی شخص کے خلاف 89 مقدمات درج ہیں۔ جب ضمانت مل جاتی ہے تو نیا کیس سامنے آتا ہے۔ یہ کیسے ہو رہا ہے؟ساتھ ہی اترپردیش حکومت کے وکیل نے کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ ہر معاملہ اپنے آپ میں مختلف ہے۔ ریاستی حکومت حلف نامہ کے ذریعے عدالت کو یہ سمجھانا چاہتی ہے۔○○○○○○○○○○○○○○○○○○○○○○○○*اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اور بیوی تزئین فاطمہ کی مشکلات میں اضافہ، جاری ہوا غیر ضمانتی وارنٹ*واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق اعظم خان فیملی کی مشکلات کم ہوتی ہوئی نہیں نظر آ رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر کو پیر کے روز شترو جائیداد معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی، لیکن اب ان کے بیٹے اور سماجوادی پارٹی عبداللہ اعظم اور ان کی بیوی تزئین فاطمہ کے خلاف عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہوگیا ہے۔ دو پیدائش سرٹیفکیٹ (برتھ سرٹیفکیٹ) معاملے میں کئی تاریخوں پر نہ پہنچنے کے سبب عدالت نے یہ وارنٹ جاری کیا ہے۔