سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے ساتھ ایس جئے شنکر کا اجلاس
نئی دہلی : وزیرخارجہ ایس جئے شنکر نے آج اپنے سعودی عرب کے ہم منصب فیصل بن فرحان السعود کے ساتھ نئی دہلی میں افغانستان کے حالات، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں توسیع کے علاوہ دفاع، سکریٹری، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعلقات میں اضافہ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب کے وزیرخارجہ ہندوستان کے سہ روزہ دورہ پر ہیں جنہوں نے آج وزیرخارجہ ایس جئے شنکر کے ساتھ اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ ایس جئے شنکر نے ہندوستان سے خلیجی ممالک کیلئے سفر پر عائد تحدیدات میں نرمی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیرخارجہ ہند نے کورونا وباء کے دوران ہندوستانی برادری کو مدد کی فراہمی پر سعودی عرب حکومت کی ستائش کی۔ سعودی عرب کے وزیرخارجہ ہندوستان کے سہ روزہ دورہ پر کل شام دہلی پہنچے۔ کورونا وباء کے بعد سعودی عرب سے ہندوستان کا یہ پہلا وزارتی دورہ ہے۔ دونوں قائدین نے افغانستان کے حالات کے علاوہ دیگر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزارت خارجی امور نے اپنے ایک بیان میں اجلاس کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ وزارت خارجی امور نے بتایا کہ دونوں قائدین نے باہمی مفادات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی تعلقات میں توسیع پر غوروخوض کیا۔ اکٹوبر 2019ء میں وزیراعظم نریندر مودی کے سعودی عرب کے دورہ کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان اسٹراٹیجک پارٹنر شپ کونسل معاہدہ پر دستخط کئے گئے تھے جس پر عمل آوری کا بھی دونوں قائدین نے جائزہ لیا۔ معاہدہ کے تحت اجلاسوں کے انعقاد اور اس کی پیشرفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سیکوریٹی، کلچر کے علاوہ قونصلر سے متعلق امور، ہیلتھ کیر اور انسانی وسائل کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام کیلئے مختلف اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ دونوں قائدین نے ہمہ مقصدی فورم جیسے اقوام متحدہ، G-20 اور گلف کوآپریشن کونسل میں باہمی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ افغانستان کے بدلتے حالات میں سعودی عرب کا علاقائی اعتبار سے اہم رول ہے جبکہ خلیجی علاقہ کے دیگر ممالک بشمول قطر اور ایران افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سے قبل قیام امن میں اہم رول ادا کرچکے ہیں۔ افغانستان میں ہورہی تبدیلیوں کو لیکر خلیجی خطہ میں ہندوستان متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں۔