عام شہریوں کو طالبان سے اس مرتبہ بہتر حکمرانی کی اُمید
نئی حکومت کی تشکیل کیلئے تیاریاں ، عنقریب اعلان
طالبان خواتین پر تشدد نہیں چاہتے ، انسانی حقوق کی پاسداری
غیر ملکی شہریوں اور سفارت خانوں کی حفاظت کی یقین دہانی
کابل: طالبان نے افغانستان میں عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ خونریزی کے بغیر اقتدار دوبارہ سنبھالنے والے طالبان نے سرکاری ملازمین سے کام پر واپس لوٹنے کی اپیل بھی کی ہے۔ اس سے قبل بھی طالبان نے نقصان نہیں پہنچانے کی بات کہی تھی۔ کابل کے ایک باشندے کو امید ہے کہ طالبان لوگوں کے خدشات کو دور کر سکتے ہیں، موجودہ حالات میں زندگی کو معمول پر لانے میں مدد کر سکتے ہیں اور افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ افغان دارالحکومت کابل کے علاقوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے ، دکانیں بند ہیں۔ لوگ گھروں تک محدود ہیں ۔ طالبان نے شہر کے ہر کونے میں چوکیاں بنا رکھی ہیں اور وہاں سے گزرنے والے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کابل میں تمام سفارتی مشن اور غیر ملکی شہریوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ افغانستان میں موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور پورا ملک پریشان ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اور یہ کہ طالبان کی طرف سے تبدیلی آئے گی جنہوں نے ماضی میں لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے خدشات کو دور کریں اور افغانی ترقی کے لیے کوشش کریں۔طالبان نے افغانستان پر قبضے کے بعد وہاں حکومت بنانے سے متعلق تیاریاں شروع کردی ہیں۔ طالبان نے کہا کہ اس کی حکومت پوری طرح سے شریعت کے مطابق ہوگی جس میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ طالبان نے کہا کہ اس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا ہے۔امارت اسلامیہ کلچر کمشنریٹ کے رکن انعام اللہ غنی نے منگل کو افغان کے سرکاری ٹی وی پر یہ تبصرہ کیا۔ یہ اب طالبان کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی امارت نہیں چاہتا ہے کہ خواتین پر تشدد ہو۔ طالبان افغانستان کے لئے اسلامی امارت کا استعمال کرتا ہے۔انعام اللہ غنی نے کہاکہ حکومت کا ڈھانچہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے لیکن ہمارے تجربے کی بنیاد پر اس میں مکمل اسلامی قیادت ہونا چاہئے اور تمام فریقوں کو اس میں شامل رکھنا چاہئے۔ ابھی حکومت بنانے کا ایجنڈہ طے کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی تجویز کا اعلان کیا جائے گا۔فی الحال اقتدار کی منتقلی کے لئے رابطہ کونسل کا اعلان کیا گیا ہے۔ آج کونسل کے اراکین طالبانی رہنماؤں سے بات کررہے ہیں۔ دریں اثناء امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلاء کے اپنے فیصلے کو درست قراردیتے ہوئے طالبان کو انتباہ دیا ہیکہ اگر طالبان امریکی شہریوں کے انخلاء کی فوجی کاروائی میں مداخلت کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وہیں امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے شرائط رکھیں ہیں۔ امریکہ نے افغانستان میں ایک ایسی نئی حکومت کا مطالبہ کیا ہے جو انسانی حقوق بشمول خواتین کے حقوق کا احترام کرے۔