افغانستان میں گردوارہ پر حملہ کرنے والے انسانوں کے بھیس میں شیطان: پروفیسر قادر محی الدین

   

چینائی (پریس ریلیز)انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر قادرمحی الدین نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں افغانستان کے دارالحکومت کابل شور بازار علاقے میں گردوارے پر ہوئے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ انسانوں کے بھیس میں شیطانوں نے انجام دیا ہے اور اس غیر انسانی کارروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ افغانستان 3.75کروڑ کی آبادی والا ملک ہے اورافغانستان میں سکھ برادری کا ایک بہت چھوٹا حصہ بستا ہے۔25مارچ2020کے صبح کو سکھوں کے مرد، خواتین اور بچے کورونا وائرس کے خراب اثرات سے بچنے کیلئے گردوارے میں عبادت کرنے کیلئے پہنچے تھے اور ان میں تقریبا 27افراد کو داعش کے بندوق برداروں نے قتل عام کیا ہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ لوگ جو گردوارے میں داخل ہوئے اور لوگوں پر گولی چلائی اور مردوں، خواتین اور بچوں کو اندھا دھند قتل کردیا، کیا وہ واقعی انسان ہیں؟۔ وہ انسان نہیں ہوسکتے وہ انسان کے بھیس میں شیطان ہیں۔ ان شیطانوں نے اسلام اور مسلمانوں کے نام پر یہ سنگین اور خوفناک دہشت گردانہ حملہ کیا ہے۔ ہم دنیا کے مسلمان کھبی بھی ان گمراہ افراد کے مسلمان ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور مسلمانوں کے نام پر اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں کو بھی قبول نہیں کرتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کے مسلمانوں کا تعلق ہے وہ یقینی طور پر اور کھلے عام بیان کرتے ہیں کہ اس خوفناک غیر انسانی حرکت کے مرتکب واقعی انسان نہیں ہیں۔ یہ انسانیت کے دشمن ہیں اور انہیں انسانیت سے دست بردارکیاجانا چاہئے۔ پروفیسر قادر محی الدین نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ہم سکھ برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ آج دنیا کے لوگ کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے ایک سنگین صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔دنیا میں ہر شخص اس سے بہت پریشان ہے کہ اس کی زندگی کی حفاظت کیسے کی جائے۔ اس کے مفادات کی حفاظت کیسے کی جائے اور وائرس کے حملے سے خود کو کیسے آزاد کیا جائے۔درحقیقت، آج دنیا پوری دنیا ایک انتہائی نازک وقت سے گزر رہی ہے اور دنیا کے لوگوں اور اس وباء کے درمیان ایک جنگ جاری ہے۔