افغانستان کو طالبان 60 سال پیچھے کردیں گے

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان افغانیوں کیلئے محفوظ، حیدرآباد میں مقیم افغان افراد کا تاثر

حیدرآباد۔15اگسٹ(سیاست نیوز) طالبان افغانستان کو 60 سال پیچھے کردیں گے۔ ہم تو اپنے افراد خاندان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ جلد سے جلد ملک چھوڑ کرنقل مکانی کریں۔ ہندستان میں ہم خود کو محفوظ تصورکر رہے ہیں۔ افغانستان کو امریکہ نے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لئے طالبان کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی ذمہ دار ہے۔ شہر حیدرآباد میں موجود افغان شہری جو کہ شہر میں مختلف مقامات پر ہوٹل اور دیگر کاروبار سے جڑے ہیں نے بتایا کہ وہ اس صورتحال کے خوف سے ہی نقل مکانی کرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد اب افغانستان میں کچھ باقی نہیں رہا اور نہ ہی افغانستان ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوپائے گا۔ شہر حیدرآباد کے علاقہ ٹولی چوکی میں ہوٹل چلانے والے ایک افغان شہری نے بتایا کہ افغانستان میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے اور وہ اس صورتحال کو ایک خواب کی طرح دیکھا کرتے تھے لیکن اب وہ خواب ایک حقیقت بن کر ابھر چکا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ وہ گذشتہ ایک ماہ سے اپنے افراد خاندان کے علاوہ دوست و احباب سے کہہ رہے ہیں کہ وہ نقل مکانی کریں تاکہ ایک محفوظ ماحول میں زندگی گذار سکیں لیکن اس کے باوجود کئی لوگوں نے ان کی بات نہیں مانی اور اب وہ پچھتا رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے دی جانے والی عام معافی کے سلسلہ میں عبدالباسط سے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ معافی کس بات کی !افغان شہری کو مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے اور ہر شہری کی طرح افغان شہری اپنے حقوق کے ساتھ زندگی گذار رہے تھے تو طالبان انہیں کس بات کی معافی دے رہے ہیں۔ فتح خان نے بتایا کہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے لئے راہیں ہموار کرنے میں امریکہ کا بڑا کردار ہے کیونکہ طالبان سے ہونے والی بات چیت کے دوران افغانستان سے انخلاء سے قبل طالبان نے امریکہ سے ہتھیار حاصل کرلئے تھے اور آج ان ہتھیاروں نے ہی طالبان کو طاقتور بنایا ہے اسی لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں جاری صورتحال کے لئے وہ ممالک بھی ذمہ دار ہیں جو کہ افغانستان کی سرحدوں سے نکلنے سے قبل طالبان سے کئے جانے والے مذاکرات کے دوران ہتھیار چھوڑ کرجانے پر آمادہ ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کو ترقی کی راہ پر لانے کے بجائے اسے دوبارہ ایک ایسے تاریک دور میں لیجانے کی کوشش ہورہی ہے جس میں انسانوں کی آزادی سلب کرلی جائے گی اور من مانی کرتے ہوئے شہریوں پر پابندیاں عائد کی جانے لگیں گی۔یاور زین جو کہ ایک خانسامہ ہیں نے بتایا کہ افغانستان کے حالات اور طالبان کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے امریکہ کی جانب سے گڑھے جانے والے اچھے اور برے طالبان کو سمجھا جائے اور اس بات کو یاد رکھا جائے کہ امریکہ نے اچھے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور امریکہ جنہیں برے طالبان تصورکرتا تھا ان کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری تھا ۔ اسی لئے افغانستان کے مستقبل کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار پہنچ رہا ہے وہ کس زمرے میں آتے ہیں اس بات کا جائزہ لینا انتہائی اہم ہے۔