افغانیوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ پر پابندی

   

واشنگٹن فائرنگ واقعہ کی سابق صدر بارک اوباما اور سابق نائب صدر کملاہیریس نے مذمت کی

واشنگٹن۔ 27؍نومبر ( ایجنسیز )وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعہ کے بعد امریکہ میں سیاسی اور انتظامی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے۔ سابق صدر بارک اوباما اور سابق نائب صدر کملاہیریس نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ پر فوری طور پر غیر معینہ مدت کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ واشنگٹن کے ڈاؤن ٹاؤن میں پیش آئے اس واقعہ میں دو نیشنل گارڈز اہلکاروں کو گولیاں لگیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اوباما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’’امریکہ میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ مشیل اور میں زخمی فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے دعاگو ہیں، جو اس وقت نہایت صدمہ سے گزر رہے ہیں۔اسی طرح سابق نائب صدر کملا ہیرس نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈگ اور میں ان دونوں نیشنل گارڈز ، ان کے اہل خانہ اور ان سے محبت کرنے والوں کیلئے دعا کرتے ہیں۔ تشدد کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں اور ہمیں اس المیہ کی اجتماعی طور پر مذمت کرنی چاہیے۔ادھر فائرنگ کے پس منظر میں امریکی امیگریشن ڈپارٹمنٹ نے افغان شہریوں سے متعلق تمام درخواستوں کی پروسیسنگ کو فوری طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی اور ویٹنگ پروٹوکول کے جامع جائزے تک افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت تک روک دی گئی ہیں۔ امریکی عوام کی حفاظت ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔ صدر ٹرمپ نے شام میں قوم سے خطاب میں اس حملے کو بربریت، نفرت اور دہشت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ملک اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار ملزم افغانستان سے امریکہ آیا تھا، جو خود ایک تباہ حال خطہ زمین ہے۔ انہوں نے اس بات کا الزام سابق بائیڈن انتظامیہ پر لگایا کہ انہوں نے ملزم کو پناہ گزین حیثیت کے تحت ملک میں داخل ہونے دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور کی شناخت 2021 میں امریکہ آنے والے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بائیڈن دور میں افغانستان سے منتقل ہونے والے تمام شہریوں کی دوبارہ جانچ کروائیں گے۔