اقتصادی سروے کارآمدبجٹ عوام کے لئے غیرفائدہ بخش

   

پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ)

مرکزی بجٹ برائے سال 2026-27 پچھلے اتوار کو پیش کیا گیا جس کے بعد وزیراعظم ، کابینی وزراء ، بی جے پی قائدین اور حکومت کی تائید و حمایت کرنے والے میڈیا نے اس کی بہت تعریف کی اور زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے ۔ سب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ بجٹ ایک عوامی بجٹ ہے جس سے عام ہندوستانی شہریوں کا بھلا ہوگا جبکہ بجٹ برائے سال 2026-27 پیش کرنے کے بعد حکومت کے ترجمانوں ( بشمول بی جے پی ترجمان ) مختلف اخبارات میں ادارے تحریر کرنے والے کہنہ مشق صحافیوں ، مبصرین و تجزیہ نگاروں نے اس پر محتاط جیسا لفظ اور ایک انگریزی محاورہ dont rock the boat استعمال کیا یعنی ان لوگوں نے بڑی احتیاط سے کام لیا تاکہ اُن کاردعمل کسی تنازع کا باعث نہ بن سکے اور راقم الحروف کے خیال میں ان لوگوں نے مرکزی بجٹ کیلئے ایک امریکی محاورہ “If it ain’t broke, don’t fix it” یعنی کوئی چیز ٹوٹی ہی نہیں تو اسے ٹھیک ٹھاک کرنے کی ضرورت نہیں کی پوری طرح پیروی کی ۔
بے شمار چیلنجز : آپ کو بتادیں کہ اقتصادی سروے 2025-26 میں ان چیلنجز کی نشاندہی کی گئی جن کا ہندوستانی معیشت کو سامنا ہے اور وہ چیلنجز حسب ذیل ہیں :
< ہندوستانی معیشت کیلئے سب سے بڑا چیلنج امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کردہ ٹیرف جنگ ہے ۔ اگرچہ حال ہی میں امریکی صدر نے یہ اعلان کردیا ہے کہ ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کردیاجائے گا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف کم کرکے 18 فیصد یوں ہی نہیں کیا بلکہ مشروط طورپر اُنھوں نے ایسا کیا۔ ان شرائط میں ایک شرط یہ ہے کہ ہندوستانی امریکی مصنوعات پر ٹیرف صفر کردے ۔ ( ہندوستان نے ایسا ہی کیا اور امریکی مصنوعات پر ٹیرف صفر کردیا ) ۔ دوسری شرط شائد یہ تھی کہ ہندوستان امریکہ سے 500 ارب ڈالرس کی مصنوعات خریدے (خود مودی حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ سے 500 ارب ڈالرس کی مصنوعات خریدے گا اور اُس کیلئے مدت کا تعین بھی کیا گیا)۔ مذکورہ شرائط کے ساتھ دوسری شرائط پوری کرنا یا اُن پر عمل آوری کچھ آسان نہیں ہے ۔ ان شرائط سے میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں ہمارے ملک کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
< راست بیرونی سرمایہ کاری کا بہاؤ : راست بیرونی سرمایہ کاری یا ایف ڈی آئی کے بہاؤ کی جس سطح کا امکان ظاہر کیا گیا تھا اس سطح سے کم ہے ۔ خاص طورپر جو Foreign Portfolio Investment یا بیرونی سرمایہ کار جنھوں نے ہندوستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی تھی اب اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور اس سرمایہ کو وہ بیرون ملک منتقل کرنے لگے ہیں -اس کے برعکس یہ اُمید کی جارہی تھی کہ دولتمند ہندوستانی پروموٹرس اپنا سرمایہ مشغول کریں گے لیکن وہ بھی اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچارہے ہیں ، اس کے نتیجہ میں گراس فکسڈ کیاپٹل فارمیشن (GFCF) قومی مجموعی پیداوار کے تقریباً 30 فیصد پر ہی پھنسی ہوئی ہے ۔
< قومی مجموعی پیداوار کی غیراطمینان بخش شرح نمو : این ایس او کے اختیار کردہ طریقہ کار یا عمل اور نیشنل اکاؤنٹس سے متعلق شکوک و شبہات نے حقیقی قومی مجموعی پیداوار کی شرح نمو پر بھی اپنا اثر ڈالا ہے ۔ برائے نام قومی مجموعی پیداوار بہتر اشاریہ ہے اور یہ سال 2023-24 ، 2024-25 اور 2025-26 میں بالترتیب 12 فیصد ، 9.8 فیصد اور 8 فیصد بڑھا ہے جبکہ شرح نمو کی رفتار کم ہورہی ہے ۔
< بیروزگاری کی سنگین صورتحال : جون 2025 ء میں نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 15 فیصد تھی ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جملہ افرادی قوت یا ورک فورس کا صرف 21.7 فیصد حصہ ریگولر تنخواہ یافتہ ہیں یعنی Salaried Employment ہے اس کے برعکس بیروزگار نوجوانوں کی تعداد لاکھوں میں پائی جاتی ہے ۔ اعداد و شمار خود روزگار کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ آپ اور ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی بھی ملک صرف اوسط آمدنی کا حامل ملک بن کر بغیر صنعتی طاقت بنے آگے نہیں بڑھتا ۔ ہندوستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر نے گزشتہ 10 برسوں میں جی ڈی پی میں بمشکل 15-16 فیصد حصہ ادا کیا ہے ۔ میک ان انڈیا ، پی ایل آئی اور دوسری اسکیمات روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔
< مالیاتی استحکام : ایک طاقتور میعشت بننے کیلئے کسی بھی ملک کا معاشی طورپر مستحکم ہونا ضروری ہے لیکن ہمارے ملک کی مالیاتی استحکام کی رفتار بہت سست ہے ۔ 2025-26 میں مالی خسارہ 4.4 فیصد سے کم ہوکر 2026-27 میں 4.3 فیصد ہوگا جبکہ ریونیو (آمدنی ) کا خسارہ 1.5 فیصد برقرار رہے گا ۔ اس رفتار سے FRBMاہداف تک پہنچنے میں 12 سال یا اس سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے اور ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گا ۔ اگر دیکھا جائے تو 2025-26 کی ہمارے محاصل یا ٹیکس سے متعلق حکمت عملی بری طرح ناکام رہی ۔
بجٹ کے حساب کتاب کو ریزرو بینک آف انڈیا نے سہارا دیا جس نے سال 2025-26 میں تقریباً 3,04,000 کروڑ روپئے کا بھاری فائدہ دیا ۔ پچھلے دو برسوں میں ریزرو بینک آف انڈیا نے 2,10874 کروڑ روپئے اور 2,68,500 کروڑ روپئے کا بھاری ڈیویڈنڈ دیا ۔ اگر دیکھا جائے تو پچھلے دو برسوں میں ریزرو بنک آف انڈیا نے کافی زیادہ ڈیویڈنڈ ( فائدہ ) دیا ہے جبکہ آپ کو یہ یاد دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یو پی اے دورِ حکومت (2024-2014 ) کے دوران ریزرو بینک آف انڈیا کا اعظم ترین ڈیویڈنڈ سال 2013-14 ء میں 52679کروڑ روپئے تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر فینانس نے CEA کو نظرانداز کیا یعنی چیف اکنامک اڈوائیزر نے جو وزیراعظم کے پسندہدہ ماہر اقتصادیات ہیں سفارشات پیش کی تھیں یا مشورے دیئے تھے اُنھیں بری طرح نظرانداز کردیا ۔ حالانکہ اقتصادی مشیراعلیٰ نے مایوسی نہیں بلکہ محتاط طرز عمل کا مشورہ دیا تھا اور یہی انداز اکنامک سروے رپورٹ میں برقرار رہا ۔
مالیاتی استحکام کیلئے چیف اکنامک اڈوائیز نے ایک قابل بھروسہ تدریجی راہ اپنانے کی وکالت کی تھی ۔ ایک اور چیاپٹر یا باب میں انھوں نے شہریانے کے عمل پر زور دیتے ہوئے مضبوط و مستحکم میٹرو پالیٹن گورننس ایسی سماجی جو شہریوں اور ریاست کے درمیان ترغیبات کو ہم آہنگی کرے ساتھ ساتھ قابل پیش گوئی نفاذ اور بہتر و مستحکم مالی حالت کے ساتھ بااختیار شہری انتظامیہ یا شہریانے کے عمل کی سفارش کی ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہوگا کہ وزیر مالیہ کا اپنے پرنسپل اڈوائزر کے جواب میں دیا گیا ردعمل ’’ٹال مٹول ‘‘ پر مبنی تھا ۔