اقلیت اور بی سی طبقات کیلئے خود روزگار اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی

   

دیگر طبقات کی ناراضگی دور کرنے چیف منسٹر کی مساعی، بینکوں سے مربوط اسکیمات کیلئے عنقریب فنڈس جاری ہوں گے
حیدرآباد۔2 ۔اگست (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے دلتوں کی بھلائی کیلئے نئی اسکیم کے اعلان کے بعد دیگر طبقات کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھنے لگا ہے کہ ان کی بھلائی کیلئے پہلے سے موجود اسکیمات کا بجٹ جاری کیا جائے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دلت بندھو اسکیم کے اعلان کے بعد بی سی ، ایس ٹی اور اقلیتوں میں مایوسی پیدا ہوچکی ہے کیونکہ حکومت نے بینک سے مربوط کئے بغیر دلتوں کیلئے فی خاندان 10 لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے ۔ دیگر طبقات کے لئے بینکوں سے مربوط اسکیمات پہلے سے موجود ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے اسکیمات کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا ۔ خود روزگار اسکیمات کے تحت بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیت کارپوریشنوں کی جانب سے مالیاتی سال 2017-18 ء میں درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشنوں کے پاس گزشتہ 4 برسوں سے 9.5 لاکھ درخواستیں زیر التواء ہے کیونکہ حکومت نے بجٹ جاری نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت دیگر طبقات کی ناراضگی دور کرنے کیلئے خود روزگار اسکیم کا بجٹ جاری کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیمات کے لئے مرحلہ وار انداز میں بجٹ جاری کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی کارپوریشن کے پاس 5.10 لاکھ درخواستیں زیر التواء ہے جبکہ ایس ٹی امیدواروں کی تعداد 202433 ہے۔ ایس سی طبقہ کی 173159 درخواستیں زیر التواء ہے جبکہ اقلیتی طبقہ کی تقریباً ایک لاکھ درخواستیں یکسوئی کی منتظر ہیں۔ حکومت نے گزشتہ سال ایس ٹی امیدواروں کیلئے 650 کروڑ کا اعلان کیا تھا لیکن کورونا وباء کے سبب رقومات جاری نہیں کی گئیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کورونا وباء اور لاکھ ڈاؤن کے نتیجہ میں ریاست کی مالی صورتحال کمزور ہوچکی ہے ۔ حکومت نے صرف ہنگامی خدمات کے لئے بجٹ جاری کرنے محکمہ فینانس کو ہدایت دی ہے۔ فلاحی اسکیمات کے بجٹ کو روک دیا گیا جس کے نتیجہ میں بینکوں سے مربوط سبسیڈی اور خود روزگار اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوچکی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے دیگر طبقات کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ جاریہ سال تمام کارپوریشنوں کو بجٹ جاری کریں۔ بجٹ کی اجرائی مرحلہ وار طور پر ہوگی۔ حکومت نے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی ہے کہ درکار بجٹ کے ذریعہ کارپوریشنوںکی زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کی جائے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں 2014-15 ء کے دوران حاصل کردہ درخواستیں آج تک زیر التواء ہیں۔ حکومت دیگر طبقات کیلئے فنڈس کی اجرائی کے ذریعہ یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کی پابند ہے۔ بینکوں سے مربوط اسکیمات کے علاوہ اسکالرشپ ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیمات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں طلبہ گزشتہ تین برسوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول میں طلبہ کی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کو چاہئے کہ فوری طورپر بجٹ جاری کرے۔