اقلیتوں کو مرضی کے مطابق منصوبہ بندی کا رجحان خطرناک

   

مسلمانوں اور عیسائیوں کی خوشامد پسندی کو ترک کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔2ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک کی بیشتر ریاستوں میں اب بھی اقلیتوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان کی ترقی کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کے امور کو حل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جو کہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جنرل سیکریٹری بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک بی ایل سنتوش نے میسور میں منعقدہ ایک ادبی فیسٹیول کے دوران یہ ریمارک کیا او رکہا کہ اس خطرناک رجحان کے مقابلہ کے لئے ضروری ہے کہ ملک بھر میں اقلیتوں کی خوشامد پسند پالیسی کو ترک کیا جانا چاہئے ۔ بی ایل سنتوش جو کہ آر ایس ایس کے سرکردہ قائدین میں شمار کئے جاتے ہیں انہیں 4 سال قبل امیت شاہ نے کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے عہدہ پر فائز کیا تھا اور ان کی شناخت ایک کٹر پسند ہندو تواقائد کی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کی خوشامد پسندی کی صورتحال پیشتر ریاستوں میں دیکھی جا رہی ہے جن میں جنوبی ریاستوں میں کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ ہندستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی خوشامد پسندانہ پالیسی کی تیاری ملک کے داخلی امور کے علاوہ دیگر کو متاثر کرسکتی ہے اسی لئے اس پالیسی کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ سنتوش نے کہا کہ ہندستان میں بسنے والے عیسائیوں کی نصف آبادی آندھرا پردیش‘ کیرالہ ‘ تمل ناڈو اور کرناٹک میں ہے اور ان ریاستوں میں موجود اقلیتی طبقات کو حاصل مراعات ناقابل فہم ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پہلی معیاد کے دوران ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا نعرہ دیا تھا اور دوسری معیاد کے دوران سب کا ساتھ ‘ سب کا وکاس اور اب سب کا وشواس کا نعرہ دیا لیکن اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کی جانب سے اس طرح کے بیانات کے سبب ماحول مکدر ہونے لگا ہے۔وزیر اعظم ہندستانیوں کی ترقی کی بات کر رہے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین ہندستانی عوام کو اقلیت اور اکثریت میں منقسم کرتے ہوئے فرقہ واریت کا فروغ انجام دے رہے ہیں۔ بی ایل سنتوش کے ریمارکس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی سب کا ساتھ سب کا وکاس کے حق میں نہیں ہے بلکہ پارٹی قائدین کا نظریہ سب کا ساتھ اقلیتوں کا وناش کا نظریہ ہے اور اس نظریہ کے ذریعہ منافرت پھیلاتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی او ران کوششوں کے نتیجہ میں جو حالات پیدا ہورہے ہیں اس کا سب کو اندازہ ہے۔