اقلیتوں کیلئے حکومت سے کوئی خصوصی اسکیم نہیں

   

بینکرس پر بھی کوئی دباؤ نہیں، اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کا اجلاس نظرانداز

حیدرآباد۔2۔جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست میں اقلیتوں کے لئے خود کوئی مخصوص اسکیم نہیں چلا رہی ہے اور نہ ہی ریاست کے بینکرس پر اس بات کا دباؤ ڈالا جا رہاہے کہ وہ ریاست تلنگانہ کے اقلیتوں کے لئے مخصوص اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے انہیں قرض فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاست میں اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کے 37اجلاس منعقد ہوئے جن میں ایک بھی اجلاس مخصوص برائے اقلیتی طبقات منعقد نہیں کیا گیا حالانکہ حکومت کی جانب سے بینکرس کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں زرعی پیشہ افراد‘ امکنہ اسکیم ‘ ایس سی اور ایس ٹی کے علاوہ پسماندہ طبقات کے لئے مخصوص اجلاس منعقد کئے جاچکے ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کا پہلا اجلاس 4جون 2014 کو منعقد ہوا جبکہ 37واں اجلاس 19 مئی 2023کو منعقد ہوا جس کی صدارت ریاستی وزیر فینانس نے کی۔ اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کے اجلاس کے دوران پیش کی گئی تفصیلات میں بینکرس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں واضح طور پر کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے سال 2018-19 سے کسی بھی سرکاری اسکیم پر عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے اسی لئے ریاست میں اقلیتوں کو فراہم کئے جانے والے قرضہ جات یا سبسیڈی کی کوئی تفصیلات بینکرس کے پاس موجود نہیں ہے۔ اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کا تشکیل تلنگانہ کے بعد جو چوتھا اجلاس منعقد کیا گیا تھا اس کے ایجنڈہ کی تفصیلات کا مشاہدہ کیا جائے تو تلنگانہ میں تشکیل تلنگانہ کے سال تک ریاست کے بینکرس مجموعی اعتبار سے 7لاکھ 58 ہزار سے زائد کھاتے ایسے رکھتے تھے جنہیں حکومت کی جانب سے مختلف اسکیمات کے تحت قرضہ جات کی منظوری عمل میں لائی گئی تھی جن میں تعلیمی قرض‘ تجارتی قرض ‘ صنعتی قرض کے علاوہ دیگر شامل تھے۔ 30جون2014 کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے بینکرس نے اقلیتوں کو 57ہزار کھاتوں میں 753 کروڑ روپئے جاری کئے تھے لیکن اب 37ویں اجلاس کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو بینکرس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح کردیا ہے کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے کوئی اسکیم نہیں چلائی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ مالی سال 2022-23کے لئے بھی کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا ہے اسی لئے بینکرس کی جانب سے اقلیتوں کے لئے کوئی مخصوص منصوبہ تیار نہیں کیا گیا ہے۔تشکیل تلنگانہ سے قبل متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ریاستی حکومت کی جانب سے اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کے اجلاس کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار موجود ہوا کرتے تھے اور وہ اپنے محکمہ کے لئے مخصوص اسکیمات کو روشناس کروانے کے لئے تجاویز پیش کیا کرتے تھے لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاست میں بینکرس کمیٹی کا ایک بھی اجلاس اقلیتوں کے لئے مخصوص منعقد نہ کئے جانے کے سبب بینکرس کو بھی اقلیتوں کو قرض کی فراہمی یا انہیں اسکیمات میں شامل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ سابق میں اقلیتی منتخبہ نمائندوں کی موجودگی میں اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے بینکرس کو اس بات کی ہدایات جاری کی جاتی تھیں کہ وہ اپنی اسکیمات بالخصوص امکنہ ‘ تجارتی اور تعلیمی قرضہ جات میں اقلیتوں کو ان کا حصہ مختص کرتے ہوئے جاری کریں۔م