اقلیتی اقامتی اسکولوں کی ذاتی عمارتوں کیلئے مرکز سے 1500 کروڑ کے پراجکٹ کی منظوری

   

Ferty9 Clinic

شاہنواز قاسم کی شخصی مساعی، سابق حکومت کی عدم دلچسپی، 40 فیصد میچنگ گرانٹ سے 204 اسکول اور کالجس کی ذاتی عمارتیں ممکن، اقلیتوں کیلئے مزید اقدامات ممکن
حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکولوں اور ہاسٹلس کی ذاتی عمارتوں کی تعمیر کیلئے مرکزی حکومت سے1500 کروڑ کے پراجکٹ کی منظوری حاصل کی گئی لیکن گذشتہ بی آر ایس حکومت نے پراجکٹ کی حصہ داری یعنی میچنگ گرانٹ جاری نہیں کی جس کے نتیجہ میں پیش رفت متاثر ہوگئی۔ ریونت ریڈی حکومت سے امید کی جارہی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کی 40 فیصد میچنگ گرانٹ جاری کرتے ہوئے تلنگانہ کے اقامتی اسکولوں اور ہاسٹلس کی ذاتی عمارتوں کو یقنی بنائیں گے۔ سینئر آئی پی ایس عہدیدار اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کے سکریٹری شاہنواز قاسم نے گذشتہ حکومت میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے مرکز سے موثر نمائندگی کرتے ہوئے 75 اقامتی اسکولوں اور ہاسٹلس کی تعمیر پر مبنی 1500 کروڑ کا پراجکٹ منظور کرایا تھا۔ مرکزی وزارت اقلیتی امور نے پردھان منتری جن وکاس کاریا کرم (PMJVK) پروگرام کے تحت اسکیم کو منظوری دی تھی۔ شاہنواز قاسم نے اسکیم کی منظوری 2018 اور 2020 کے درمیان اپنی شخصی مساعی سے حاصل کی اور 75 اسکولوں میں 20 اسکولوں کی تعمیر کو مکمل کرایا۔ باقی تعمیری پراجکٹس مختلف مراحل میں ہیں اور ریاستی حکومت کی میچنگ گرانٹ کی عدم اجرائی کے سبب تکمیل میں تاخیر ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ وزارت اقلیتی امور کے تحت پردھان منتری جن وکاس کاریاکرم کے تحت اقلیتوں کی سماجی اور معاشی صورتحال بہتر بنانے، اقلیتوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے اسکیم متعارف کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت تعلیم، صحت اور اسکل ڈیولپمنٹ جیسے شعبہ جات میں مرکزی حکومت 60 فیصد فنڈز مختص کرتی ہے اور ریاستوں کو 40 فیصد فنڈز فراہم کرنے ہوتے ہیں۔ اسکیم کے تحت اقامتی اسکولوں، عام اسکولوں، ہاسٹلس، ڈگری کالجس، آئی ٹی آئی، پالی ٹیکنکس، سدبھاؤ منڈپس، ہیلت کیئر سنٹرس، اسکل سنٹرس کی تعمیرات، کھیل کود کی سہولتیں، صحت و صفائی اور پینے کے پانی کی سربراہی جیسے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ تلنگانہ میں اقامتی اسکولوں اور جونیر کالجس کی تعداد 204 ہے جن میں سے زیادہ تر کرایہ کی عمارتوں میں کام کررہے ہیں۔ عمارتوں کے کرایہ کے طور پر ہر سال کروڑہا روپئے رقم خرچ کی جاتی ہے۔ شاہنواز قاسم نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے مرکزی اسکیم سے استفادہ کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اقامتی اسکولوں اور ہاسٹلس کو ذاتی عمارتیں فراہم کرتے ہوئے کروڑہا روپئے کرایہ کی بچت کی جاسکے۔ انہوں نے مرکزی وزارت اقلیتی امور کو پراجکٹ رپورٹ روانہ کی اور 15 سو کروڑ کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 2018 اور 2020 کے درمیان ریاستی حکومت نے چند عمارتوں کیلئے میچنگ گرانٹ جاری کی جس کے نتیجہ میں 75 کے منجملہ 20 عمارتوں کی تعمیر مکمل کی گئی۔ پہلے مرحلہ میں 7 اسکولوں کی عمارتیں مکمل کرلی گئی۔ دوسرے مرحلہ میں 6 اسکولوں کی تعمیر کا منصوبہ تھا جس میں سے پانچ کی تکمیل کی گئی اور ایک عمارت اختتامی مراحل میں ہے۔ تیسرے مرحلہ میں 10 اقامتی اسکولوں اور دو ہاسٹلس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا جس میں سے دو مکمل کئے گئے اور 9 عمارتیں تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ ایک اسکول کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ چوتھے مرحلہ کے تحت 41 اسکولوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا جن میں سے 17 معاہدے کے مرحلہ میں ہیں جبکہ 20 کے تعمیری کام جاری ہیں۔ دو اسکولوں کا حیدرآباد میں تنازعہ ہے جبکہ نرمل میں دو اسکولوں کے ٹنڈرس ملتوی کئے گئے۔ کامن سرویس سنٹرس کے تحت 11 عمارتوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا جن میں سے 6 مکمل کئے گئے جبکہ 4 زیر تعمیر ہیں ایک کے تعمیری کام کا آغاز نہیں ہوسکا۔ شاہنواز قاسم جو فی الوقت چیف منسٹر ریونت ریڈی کے سکریٹری ہیں انہوں نے اس معاملہ کو چیف منسٹر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریاست کی جانب سے 40 فیصد میچنگ گرانٹ کی منظوری حاصل کی جائے۔ اگر مذکورہ پراجکٹ پر کامیابی سے عمل ہوتا ہے تو 75 اقامتی اسکولوں کے علاوہ باقی تمام اقامتی اسکولوں کیلئے ذاتی عمارتوں کا انتظام ہو پائے گا۔ مرکز کے 60 فیصد فنڈز سے عصری سہولتوں سے آراستہ اسکول بلڈنگس تعمیر کی جاسکتی ہیں۔ وزارت اقلیتی امور کی اسکیم سے دیگر تعلیمی ادارے جیسے ڈگری کالجس، آئی ٹی آئی اور پالی ٹیکنکس کی تعمیر عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی جیسے صاف پانی کی سربراہی اور صحت و صفائی کی سہولتوں کیلئے بھی مرکزی فنڈز حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اقلیتوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے والے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مرکزی اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں اقلیتوں کی بھلائی کے اقدامات کریں گے۔ ریاستی بجٹ کے علاوہ مرکزی اسکیم کے فنڈز سے اقلیتوں کی بہتر مدد کی جاسکتی ہے۔1