بجٹ کی عدم اجرائی،1437 جائیدادیں مخلوعہ: سمیر ولی اللہ
حیدرآباد۔/21 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ حکومت پر ریاست کے اقلیتی اداروں کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایک طرف تمام اقلیتی ادارے مخلوعہ ہیں تو دوسری طرف حکومت اقلیتی بہبود کیلئے فنڈز کی اجرائی میں تساہل سے کام لے رہی ہے۔ حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتی اداروں کو فوری پُر کرے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے اقلیتی ادارے صدورنشین اور ارکان کے علاوہ مستقل عہدیداروں سے محروم ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی، اردو اکیڈیمی، اقلیتی کمیشن جیسے اہم اداروں پر تقررات نہیں کئے گئے۔ چیف منسٹر کو اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے مختص کردہ 50 فیصد بجٹ بھی جاری نہیں کیا۔ اقلیتی اداروں کے مخلوعہ ہونے سے اسکیمات پر عمل آوری متاثر ہوئی ہے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ چیف منسٹر نے گذشتہ اسمبلی اجلاس میں تیقن دیا تھا کہ دسہرہ فیسٹول کے بعد تمام اداروں کو پُر کیا جائے گا۔ حج 2022 کی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے لہذا حج کمیٹی پر فوری تقررات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تمام اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں میں 1437 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی کمیشن نے اپنے دستوری فرائض کو انجام دیتے ہوئے اقلیتوں کے کئی اہم مسائل کی یکسوئی کی تھی لیکن صدرنشین اور ارکان کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ وقف بورڈ کی میعاد فروری 2022 میں ختم ہوجائے گی۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن ایم ایل سی انتخابات میں مسلمانوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ بی جے پی سے درپردہ مفاہمت کے سبب چیف منسٹر نے وائس چانسلرس کے تقررات، پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل اور ایم ایل سی نشستوں میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہ