حلیف جماعت مجلس کی خاموشی معنی خیز، کے سی آر 12 فیصد تحفظات بھول گئے
حیدرآباد۔/3ستمبر، ( سیاست نیوز) سابق وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر محمد علی شبیر نے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کمی سے متعلق حکومت کے فیصلہ پر سخت تنقید کی۔ محمد علی شبیر نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن دعوؤں کی اصلیت بے نقاب ہوچکی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 2019-20 کی بجٹ تجاویز میں اقلیتی بہبود کیلئے طئے شدہ 2200 کروڑ کو گھٹا کر 1200 کروڑ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس طرح ایک ہزار کروڑ کی کمی کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر طبقات کے بجٹ میں بھی کمی کی جارہی ہے۔ محمد علی شبیر نے ریمارک کیا کہ اقلیتوں اور دیگر طبقات کی بہبود کیلئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے تاہم چیف منسٹر کے شخصی اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ کے سی آر اپنے شخصی امور پر من مانی رقومات خرچ کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ پانچ برسوں میں اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے کئی بلند بانگ دعوے کئے۔ ہر سال اقلیتی بہبود کیلئے جو بجٹ مختص کیا جاتا رہا وہ کبھی بھی مکمل طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مختص کردہ بجٹ کی 50 تا60 فیصد سے زیادہ رقم کی اجرائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ چیف منسٹر نے اقلیتوں کیلئے کئی وعدے کئے تھے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ حج ہاوز کی تعمیر، موجودہ حج ہاوز سے متصل کامپلکس کا استعمال، اسلامک سنٹر اور انیس الغرباء کامپلکس کی تعمیر جیسے وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنی حلیف جماعت مجلس کو خوش رکھنے میں مصروف ہیں۔ وہ مجلس کے مفادات کی تکمیل کے ذریعہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے جن اسکیمات کا آغاز کیا گیا تھا ان پر عمل آوری کی رفتار سُست کردی گئی ہے۔ موجودہ اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی روک دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری میں حکومت نے کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کو روزگار اور تعلیم میں 12 فیصد کا وعدہ کرتے ہوئے دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرلیا لیکن آج تک 12فیصد تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھائے گئے۔ محمد علی شبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کی تائید کرنے والی حلیف جماعت مجلس نے کبھی بھی مسلم تحفظات اور دیگر امور کے بارے میں حکومت سے کوئی سوال نہیں کیا ہے۔ مجلس کو مسلمانوں کی نہیں بلکہ اپنے مفادات کی تکمیل کی فکر ہے۔ اب جبکہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کمی کردی ہے مجلس کو کم از کم احتجاج درج کرنا چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مرکز میں کے سی آر نے نریندر مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی اور مخالف شریعت طلاق ثلاثہ بل کی تائیدکی لیکن مجلسی قیادت نے آج تک نہ ہی احتجاج درج کیا اور نہ تعلقات کو منقطع کیا۔