اقلیتی کمیشن کا اجلاس 9 مختلف مقدمات کی سماعت

   

حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کا اجلاس صدر نشین محمد قمر الدین کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں 9 مقدمات کی سماعت کی گئی۔ نائب صدرنشین کمیشن بی شنکرلوکے، ریٹائرڈ جج ایم اے باسط اور کمیشن کے مشیران نے شرکت کی۔ جامعۃ المومنات کی جانب سے کمیشن سے نمائندگی کی گئی کہ ادارہ کی سند کو بورڈ آف انٹر میڈیٹ کی جانب سے مسلمہ قرار دیا جائے۔ سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن سید عمر جلیل نے کمیشن کو اس سلسلہ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ کمیشن نے اس سلسلہ میں حکومت کو مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وقارآباد ضلع کے دھارور میں سروے نمبر 359 اور 360 کے تحت پٹہ دار امینہ بیگم نے 2 ایکر 20 گنٹے اراضی مسلم قبرستان کیلئے بطور عطیہ دی ہے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ سروے آفیسر اور لینڈ ریکارڈ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ ڈپٹی تحصیلدار وینکٹیا نے ریونیو کے جوائنٹ سروے کی رپورٹ طلب کرنے کی اطلاع دی۔ مقدمہ کی سماعت 21 ڈسمبر تک مقرر کرتے ہوئے آر ڈی او وقارآباد کو نوٹس جاری کی گئی۔ جنگاؤں میں 3 ایکر 27 گنٹے اراضی کے معاملہ میں سب رجسٹرار محمد امجد علی نے اجلاس میں شرکت کی۔ مقدمہ کی سماعت 21 ڈسمبر تک ملتوی کی گئی۔ میتھوڈسٹ چرچ کی اراضیات میں بدانتظامی کی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین کی سماعت کے بعد فیصلہ کو محفوظ کردیا گیا۔ جگتیال میں وقف اراضی پر ناجائز قبضوں کے معاملہ میں انسپکٹر وقف بورڈ کریم نگر اور تحصیلدار دھرما پوری اجلاس کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیشن نے حیدرآباد اور بعض دیگر علاقوں میں اراضی کے معاملات کی سماعت کی اور آئندہ سماعت 21 ڈسمبر تک ملتوی کردی۔