30سال قبل دستوری ترمیم کے ذریعہ قانون سازی، پرگتی بھون اور راج بھون کی کشیدگی، اقلیتیں بَلی کا بکرا ؟
حیدرآباد۔/27 اپریل ، ( سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ تمیلی سائی سوندرا راجن کی جانب سے سرکاری بلز کو مسترد کرنے اور چند بلز پر حکومت سے وضاحت طلب کرنے پر ریاست کی سیاست میں نئی گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ خاص کر کوآپشن ممبرس کے انتخاب کو گورنر نے مذہب کا رنگ دے دیا ہے جس پر سخت اعتراض کیا جارہا ہے۔ معاون ارکان کا انتخاب 1993 کے دستوری ترمیمی ایکٹ کے بعد متحدہ آندھرا پردیش حکومت کی طرف سے لائے گئے میونسپل ایکٹ کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ کوآپشن ممبرس کا انتخاب گذشتہ 30 سال سے ہورہا ہے۔ کئی لوگوں کا بحیثیت معاون ارکان انتخاب کیا گیا اور انہوں نے اس عہدہ پر خدمات انجام دیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں بھی میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنس میں کوآپشن ارکان کا انتخاب کئی برسوں تک جاری رہا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایسے نظام پر گورنر کا اعتراض ریاست کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔ کوآپشن ارکان کے انتخاب کو ’ مذہب‘ کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی سخت مذمت کی جارہی ہے۔ طویل عرصہ سے ریاست میں پرگتی بھون اور راج بھون کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ حکومت کو تنگ کرنے کیلئے اقلیتوں کو بَلی کا بکرا بنایا جارہا ہے اور کوآپشن ارکان کے انتخاب کو مذہبی رنگ دیا جارہا ہے۔ حالانکہ میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشن میں معاون ارکان کا انتخاب کوئی نئی بات نہیں ہے۔1993 میں دستوری ترمیمی ایکٹ کو پارلیمنٹ کے منظور کردہ میونسپل ایکٹ کے مطابق تمام ریاستوں نے میونسپل قوانین نافذ کرلیا ہے۔ اس وقت کی متحدہ آندھرا پردیش حکومت نے بھی 1994 میں آندھرا پردیش میونسپل ایکٹ واضح کیا اور اس کو نافذ کیا۔ ایکٹ میں کوآپشن ممبرس کا حوالہ شامل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تین کوآپشن ممبرس جو ماہر بلدی نظم و نسق ہوں ساتھ ہی اقلیتوں سے مزید دو ارکان کا انتخاب کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ سال 2014 میں علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاستی حکومت نے پرانے قانون میں ترمیم کی اور 2019 میں ایک نیا قانون نافذ کیا جس میں بھی دو ماہرین اور اقلیتوں سے دو ارکان کو بلدیات میں کوآپشن ارکان کی حیثیت سے منتخب کرانے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ ان چار ارکان میں دو خواتین کے انتخاب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ میونسپل قانون 2019 کے سیکشن 5 میں کلاس 4 میں اس مسئلہ کو واضح کیا گیا ہے۔ فی الحال ریاست کے تمام میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنس میں اس پر عمل آوری ہورہی ہے۔ اقلیتی برادری میں مسلم، کرسچن، بودھ ، سکھ مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کا بحیثیت معاون ارکان انتخاب کیا جارہا ہے۔ دستور کی 73 ویں ترمیم کی بنیاد پر ضلع اور منڈل پریشد میں کوآپشن ارکان کا انتخاب کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے تازہ طور پر کوآپشن ارکان کی تعداد میں اضافہ کرکے نیا ترمیمی بل اسمبلی میں منظور کرکے گورنر کو روانہ کیا ہے۔ نئے بل میں کارپوریشنس میں ماہرین کو آپشن ارکان کی تعداد 6 اور اقلیتوں کی تعداد کو4 کیا گیا ہے۔ ماہرین کے ارکان پر گورنر کوکوئی اعتراض نہیں ہے۔ صرف اقلیتی ارکان پر گورنر کا اعتراض معنی خیز ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سابق گورنرس نیاس قانون پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں منظور کردہ ترمیمی بل سے دستبرداری اختیار کی جاتی ہے تو عمل میں رہنے والا قانون جوں کا توں برقرار رہے گا اور مستقبل میں بھی اقلیتوں کو کوآپشن ارکان کی حیثیت سے انتخاب کرنے کی گنجائش باقی رہے گی۔ گورنر نے جو اعتراض کیا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ن