جنیوا : اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلیٹ نے کہا ہے کہ وہ مئی میں چین کا دورہ کریں گی۔ اس دورے میں چینی حکام سے ملاقاتیں شامل ہوں گی اور وہ اس دوران سنکیانگ کا دورہ بھی کریں گی۔ سنکیانگ میں وہ مبینہ حراستی کیمپ ہیں جنہیں چین پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز کہتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ سنکیانگ میں علاحدگی پسند اور دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے گروپوں کا دعویٰ ہے کہ 10 لاکھ سے زیادہ ایغوروں کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ یہ 2005 ء کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کا چین کا پہلا دورہ ہوگا۔ مشیل باچلیٹ کا کہنا ہے کہ وہ چینی حکام پر تنقید کرنے والے شہریوں کے ساتھ سرکاری ہرکاروں کے ردعمل کے بارے میں فکر مند ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ، امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے کئی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا تھا کہ چین نے نیم خود مختار ریاست سنکیانگ میں 10مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں قید کرکے ان پر مظالم شروع کررکھے ہیں۔ سنکیانگ میں ایغور اقلیت کی نسل کشی کی جارہی ہے،جب کہ ان کی خواتین کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔