اقوام متحدہ کی ایران میں خواتین کیخلاف’سخت کریک ڈاؤن‘ کی مذمت

   

نیویارک : اقوام متحدہ نے ایران میں حکومت کی جانب سے حجاب نہ لینے والی خواتین کو سزائیں دینے کے نئے سلسلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جن خواتین کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، ان میں سے بعض کی عمر 15 برس ہے۔ایران کے قانون کے مطابق خواتین کے لیے عوامی مقامات پر حجاب لینا ضروری ہے اور اس کی خلاف ورزی قابل سزا جرم ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس نئے قانونی بِل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے جس کا عنوان ’خاندانی نظام کی حیا اور حجاب کی کلچر کے فروغ کے ذریعے حمایت‘ ہے۔اس قانون کے تحت عوامی مقامات پر حجاب کے بغیر نظر آنے والی خواتین کو زیادہ سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے گزشتہ مہینوں میں دیکھا اور سنا ہے کہ سادہ لباس اور وردی میں ملبوس پولیس اہلکار سختی سے حجاب کے قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’ایران میں خواتین اور 15 سے 17 برس کی لڑکیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں۔‘ایران کی پولیس نے اپریل کے وسط میں حجاب کی ازسرنو کڑی نگرانی کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔جیریمی لارنس نے کہا ہے کہ ’ایران کے حکام نے سینکڑوں ایسے کاروباروں اور ہوٹلوں کو بند کر دیا ہے جہاں حجاب سے متعلق ضوابط پر عمل نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ حجاب نہ لینے والی خواتین کو پکڑنے کے لیے خفیہ کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔‘