اقوام متحدہ کے زیرانتظام اسکول پر اسرائیلی حملے میں 40ہلاکتیں

,

   

Ferty9 Clinic

جنگی طیارو ں نے تین کلاس رومز کو نشانہ بنایا۔ امریکہ ، قطر اور مصر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت متاثر ہونے کا اندیشہ

غزہ : اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعرات کو یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا جب امریکہ، قطر اور مصر کے ثالثوں کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک مرتبہ پھرشروع ہوا ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرِانتظام اسکول میں حماس کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا ہے جس میں متعدد عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔بعد ازاں فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینیئل ہیگاری نے کہا کہ جنگی طیاروں نے تین کلاس رومز کو نشانہ بنایا جہاں اسلامی جہاد اور حماس کے 30 عسکریت پسند چھپے ہوئے تھے، حملے میں نو ’دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔امریکہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حملے کے معاملے پر ’مکمل شفافیت‘ سے کام لے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے صحافیوں کو بتایاکہ اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کے متعلق مزید معلومات جاری کرے گی، ہلاک ہونے والوں کے نام بھی اس میں شامل ہوں گے۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ معلومات کو عام کرنے میں مکمل طور پر شفاف ہوں گے۔دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حماس نے غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں و قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پیش کردہ منصوبہ پر جواب نہیں دیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترجمان ماجد الانصاری نے قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’ثالثوں کو فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی طرف سے حالیہ تجاویز پر جواب موصول نہیں ہوا۔‘غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور مصر کے ہمراہ قطر کئی ماہ سے جاری مذاکرات کا حصہ ہے۔نومبر میں7دنوں کے عارضی وقفے کے بعد سے لڑائی مسلسل جاری ہے۔ عارضی جنگ بندی کے دوران ایک سو سے زائد یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔دوسری جانب مذاکرات ایک مرتبہ پھر شروع کرنے کی غرض سے امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتہ کوکہا تھا کہ اسرائیل نے تین مرحلوں پر مشتمل ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔تاہم اب ان مذاکرات کے متاثرہونے کا اندیشہ ہے۔