گلبرگہ میں کل ہند مجلس تعمیرملت کے زیراہتمام قرآنی مذاکرہ ، مولانا محمد اویس قادری اور دیگر کاخطاب
گلبرگہ ۔ 3 مارچ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام ماہ رمضان المبارک کی مناسبت سے قرآنی مذاکروں کے سلسلے کی دوسری کڑی کا آغاز یکم مارچ بروز اتوار بعد نماز ظہر مسجد چمن قادری ، قادری چوک میں عمل میں آیا ۔دوسرے قرآنی مذاکرہ بعنوان اسلام کا نظام زکوٰۃ کی صدارت الحاج اسد علی انصاری صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ و سرپرستی حضرت سید شاہ مظہر الدین قادری المعروف محسن بابا عم سجادہ نشین بارگاہ حضرت چمن قادری نے فرمائی جبکہ جناب قاضی رضوان الرحمن صدیقی مشہود ، جناب سید نذیر الدین متولی نائب صدور تعمیر ملت ، جناب عبدالوہاب ملاں ڈپٹی تحصیلدار ریجنل کمشنر آفس گلبرگی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ مذاکرہ کا آغاز امام مسجد چمن قادری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ بعد ازاں بزرگ نعت خواں محمد مظہر احمد گرمیٹکلی ، محمد عثمان علی ، مبین احمد زخمؔ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔ جناب نواب خان موظف سینیئر فزیکل ٹیچر نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ ابتدائی کلمات علاء الدین محمد اکبر معتمد عمومی تعمیر ملت نے قرآنی مذاکروں سے متعلق بھرپور روشنی ڈالی اور ان مذاکروں میں عوام کی موجودگی کو خوشگوار قرار دیا۔معروف عالمِ دین حضرت مولانا حافظ محمد اویس قادری صاحب خطیب و امام مسجد نصیریہ و بانی الحسن اسلامک ریسرچ سینٹر گلبرگہ نے زکوٰۃ، انفاق اور اسلامی معاشرت کے بنیادی اصولوں پر نہایت بصیرت افروز خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کاآغاز اس حقیقت سے کیا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتاہے اپنی مجلس میں بٹھالیتا ہے،اورایسی روحانی محفلوں میں شرکت کسی انسان کی ذاتی قابلیت نہیں بلکہ رب کریم کا خصوصی انعام اور فضل ہوتا ہے۔مولانا اویس صاحب نے ایک سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسافر نے راستہ میں دو اشخاص کو روتے دیکھا؛ ایک بھوک کی شدت سے نڈھال تھا اور دوسرا کثرتِ طعام کے باعث دردِ شکم میں مبتلا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صاحبِ ثروت اپنی ضرورت سے زائد دولت محتاج کو دے دیتا تو نہ وہ بھوک سے تڑپتا اور نہ یہ شکم سیری کی تکلیف میں مبتلا ہوتا۔ اسلام کا معاشی نظام اسی توازن اور اعتدال کا علمبردار ہے، جہاں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں گردش کرتی ہے۔ مولانا اویس قادری نے عصرِ حاضر کی مغربی تہذیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب آج ان برائیوں کو خوشنما عنوانات دے کر پیش کررہا ہے، جبکہ ہماری نوجوان نسل اپنے عظیم رول ماڈل، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہوتے ہوئے بھی مغربی افکار سے متاثر ہو رہی ہے۔ حضرت مولانا حافظ محمد اویس قادری صاحب نے زکوٰۃ کو ’’نظامِ حیات‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض مالی عبادت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی و اقتصادی نظام ہے۔ زکوٰۃ قدرت کا ایک طرح کا ’’انشورنس‘‘ ہے؛ اگر انسان اپنے مال میں سے مقررہ حصہ یعنی ڈھائی فیصد اللہ کی راہ میں ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت اور حفاظت عطا فرماتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ درحقیقت اس کا اپنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ مولانا اویس قادری صاحب نے قرآن کی اس تعلیم کا حوالہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ اس لیے مومن کا حقیقی سرمایہ وہی ہے جو اللہ کی راہ میں صرف ہو۔ مولانا اویس قادری نے زکوٰۃ کے مصارف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم نے زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین متعین کیے ہیں، جن میں فقراء، مساکین، عاملین، مؤلفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروضین، فی سبیل اللہ اور مسافر شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے پہلی ترجیح قریبی رشتہ داروں کو دی جائے، کیونکہ اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ صلہ رحمی کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا نے کہا کہ زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے، خلوصِ نیت اور شرعی اصولوں کے مطابق ادا کرنا ہی اس عبادت کی روح ہے۔ اگر اسلامی معاشرہ زکوٰۃ کے حقیقی نظام کو نافذ کر دے تو معاشی ناہمواری، غربت اور بے چینی کا بڑا حصہ خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔تعمیر ملت گلبرگہ کی جانب سے حضرت محسن بابا قبلہ اور معزز عالم دین حضرت مولانا حافظ محمد اویس قادری صاحب و امام مسجد چمن قادری کی شال پوشی و گل پوشی کا خوشگوار فریضہ انجام دیا گیا ۔ محمد مجیب علی خاں معتمد تنظیمی اُمور کے شکریہ و مولوی خواجہ گیسوداز شریک معتمد تعمیر ملت کے سلام پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا ۔ اس قرآنی مذاکرہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے علم دوست حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔