الند شریف میں مزید گرفتاریوں کو روکنے کا مطالبہ

   

ہندو تنظیموں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کرنے کی اپیل ، مسلم قائدین کی ڈپٹی کمشنر اور ایس پی سے نمائندگی
گلبرگہ : ڈاکٹر محمد اصغر چلبل قومی سیکریٹری اال انڈیا ملی کونسل برائے سیاسی امور، و سابق چیرمین گلبرگہ اربن ڈیولوپمینٹ اتھارٹی نے گلبرگہ میں منعقدہ ایک صحاافتی کانفریسن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہانھوں نے اور جناب ناصر حسین استاد ، صدر ریاستی جنتا دل سیکولر (اقلیتی سیل ) جناب مظہر حسین ایڈوکیٹ ، رئیس ب الیف، صدر رضا اکیڈمی گلبرگہ ، رحیم الدین پٹیل اور مولانا اظہر الدین پر مشتمل قائیدین کے ایک وفد نے 2مارچ کو ڈپٹی کمشنر یشونت گروکر اور محترمہ ایس پی ایشا پنت کے دفتر پنچ کر ملاقات کی ۔ ایک گھنٹہ سے زائد وقت کی اس ملاقات کے دوران الند تعلقہ میں جو پولیس کی جانب سے ایک طرفہ کاروائی کے دوران گرفتار کئے گئے 165افراد اور 9خواتین کے علاوہ کئی ایک 18سال سے کم عمر کے لڑکوں کو بھی گرفتار کئیے جانے کی شدت کے ساتھ مذمت کی ۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے اخباری نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نمائیندگی کے موقع پر بی جے پی کے مرکزی وزیر ، رکن پارلیمینٹ ، الند کے رکن اسمبلی راج کمار تیلکور ، گرامین ایم ایل اے بسوارج متی موڑو ، الند کے سبھاش گتہ دار ، ہرشہ گتہ دار اور ضلع پنچایت رکن و دیگر کے خلاف مقدمہ دائیر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوری طور پر اندولہ سوامی ریاستی صدر رام سینا ، وشوا ہندو پریشد و بجرنگ دل کے کارکنان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ کیوں کہ مسلسل ایک ہفتہ سے ان کے اشتعال انگیز بیانات کے سبب ضلع گلبرگہ میں اور خاص طور پر الند تعلقہ میں فرقہ واریت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ اور اس طرح دفعہ 144کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کی موجودگی میں پولیس کے اعلیٰ عہدہ داران ڈپٹی کمشنر ، ایس پی گلبرگہ کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ۔ وفد میں شامل قائیدین نے کہا کہ جو 2افراد الند میں گرفتاریوں کے دوران انتقال کرگئے ہیں ان کے خاندانوں کو کو حکومتی سطح پرامدادی فنڈ دئے جائیں ۔ الند میں ہوئی پولیس کاروائی کے دوران جن پولیس عہدہ داران نے بھی گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو مارا پیٹا اور گھروں کے سامان کو نقصان پہنچایا ، ان کے خلاف بھی سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ ایس پی نے تیقن دیا کہ مزید گرفتاریوں نہیں کی جائیں گی ۔ اور 5مارچ یا 6مارچ کو امن کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا جائیگا۔ ساتھ ہی ساتھ سیکشن144کا نفاذ بھی ختم کردیا جائیگا۔