الیکشن کمیشن آزادانہ و منصفانہ انتخابات میں ناکام

,

   

خامیوں کے باوجود حکومت کا دباؤ، ایم ششی دھر ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد:کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا کہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں ناکام ہوچکا ہے ۔ کئی خامیوں کے باوجود الیکشن کمیشن نے رائے دہی کا عمل مکمل کرتے ہوئے برسر اقتدار پارٹی کو فائدہ پہنچایا ۔ الیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدرنشین ایم ششی دھر ریڈی اور پردیش کانگریس کے ترجمان جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تیاریوں کے بغیر ہی انتخابات کا اعلان کردیا تھا ۔ فہرست رائے دہندگان میں خامیوں کو درست کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور پولنگ اسٹیشنوں کا انتخاب غلط انداز میں ہوا ہے۔ بے شمار خامیوں کے باوجود الیکشن کمیشن نے حکومت کے دباؤ کے تحت انتخابات منعقد کئے۔ کمیشن آزادانہ طورپر خدمات انجام دینے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم اور رائے دہی کے دن انتخابی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں لیکن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا ۔ کمیشن نے سڑکوں پر ٹی آر ایس کے ہورڈنگس نکالنے کیلئے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ لیکن عہدیداروں نے احکامات کی تکمیل نہیں کی ۔ باوجود اس کے کمیشن عہدیداروں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا ۔ ششی دھر ریڈی نے سواستک کے نشان کے علاوہ دیگر نشان کو رائے دہی میں شامل کرنے سے متعلق فیصلہ پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر یہ فیصلہ کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے فیصلہ کا اختیار حاصل ہے اور سیاسی جماعتوں کو واقف کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف جمہوریت اور دستور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری ایک گھنٹہ میں رائے دہی کا فیصد کافی بڑھ گیا جس پر عوام میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی ۔ ششی دھر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے ایک ووٹ کیلئے دو ہزار روپئے تقسیم کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس پارٹی الیکشن کمیشن کی ناکامیوں اور نتائج کا بہت جلد جائزہ لے گی ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل پر سے عوام کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔